درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 284
عشق تو دارم از آن روز یکه بودم شیر خوار 'ishqe too daaram azaaN roozeeke boodam sheer khaar یا رسول اللہ برویت عہد دارم استوار yaa Rasoolal-laah! barooyat 'ehd daaram ostowaar یا رسول اللہ ! میں تجھ سے مضبوط تعلق رکھتا ہوں اور اس دن سے کہ میں شیر خوار تھا مجھے تجھ سے محبت ہے ہر قدم کاندر جناب حضرت بیچوں زدم har qadam kaaNdar janaabe hazrate bechooN zadam دیدمت پنہاں معین و حامی و نصرت شعار deedmat pinhaaN mo'eeno haami-o nosrat she'aar جو قدم بھی میں نے خدائے بے ہمتا کی راہ میں مارا میں نے پوشیدہ طور پر ہر جگہ تجھے اپنا معین، حامی اور مددگار دیکھا در دو عالم نسبتی دارم بتو از بس بزرگ dar do 'aalam nesbatey daaram batoo az bas bozorg پرورش دادی مرا خود ہیچو طفلی در کنار parwarish daadi maraa khod hamchoo tifley dar kenaar دونوں جہانوں میں میں تجھ سے بے انتہا تعلق رکھتا ہوں تو نے خود بچے کی طرح اپنی گود میں میری پرورش فرمائی یادگن وقتیکه در کشفم نمودی شکل خویش yaad kon waqteeke dar kashfam nomoodi shakle kheesh یاد کن ہم وقت دیگر کآمدی مشتاق دار yaad kon ham waqte deegar ka-aamadi moshtaaq waar وہ وقت یاد کر کہ جب تو نے کشف میں مجھے اپنی صورت دکھائی تھی اور ایک اور موقع بھی یاد کر جب تو میرے پاس مشتاقانہ تشریف لایا تھا یادگن آن لطف و رحمتها که با من داشتی yaad kon aaN lotto rehmat-haa ke baa وال بشارت ہا که میدادی مرا از کردگار man daashti wa-aaN beshaarat-haa ke midaadi maraa az kirdegaar ان مہربانیوں اور رحمتوں کو یاد کر جو تو نے مجھ پر کیس اور ان بشارتوں کو بھی جو خدا کی طرف سے تو مجھے دیتا تھا 278