درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 212
کور کورانہ زند رائے دُنی چشم کورش بیخبر زاں روشنی chashme koorash bekhabar zaaN raushani koor kooraane zanad raa'ey dooni اندھا اندھے پن کی وجہ سے ذلیل رائے دیتا ہے کیونکہ اُس کی نابینا آنکھیں اُس روشنی سے نا آشنا ہیں بیچنیں تو اے عدوّ مُصطفیٰ مینمائی کورئی خود را بما hamchoneeN too ay 'adow-we Mostafaa mee numaa'ee koori'ee khod raa bemaa اس طرح تو بھی اسے مصطفی کے دشمن اپنی نابینائی کو ہم پر ظاہر کرتا ہے بر قمر عوعو کنی از سگ رگے نور مه کمتر نہ گردد زیں سگے noore mah kamtar ne gardad zeeN sagey bar qamar 'au 'au koni az sag ragey جیسا کہ کتے کی عادت ہوتی ہے کہ چاند پر بھونکتا ہے مگر اس کتے پن سے چاند کا نور کم نہیں ہوسکتا مصطفے آئینہ رُوئے خداست منعکس در وے ہماں خُوئے خداست mon'akis dar wai hamaaN khoo'ey khodaast Mostafaa aa'eene-'ee roo'ey khodaast مصطفی تو خدا کے چہرہ کا آئینہ ہیں۔اُن میں خدا تعالی کی ہی تمام صفات منعکس ہیں گر ندیدستی خدا او را به ہیں من راني قد راى الحق ایں یقیں man ra-aani qad ra-alhaq eeN yaqeeN gar nadeedasti khodaa oo raa be beeN اگر تو نے خدا کو نہیں دیکھا تو انہیں دیکھ۔یہ حدیث یقینی ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کو دیکھا آنکه آویزد بمستانِ خُدا aaNke aaweezad bemastaane khodaa خصم او گردد جنابِ کبریا khasme oo gardad janaabe kibriyaa جو شخص خدا کے عاشقوں سے الجھتا ہے تو جناب الہی خود اس کے دشمن ہو جاتے ہیں 207