درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 58 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 58

۵۸ کیونکہ جو سختی اپنی خوشی اور مرضی سے برداشت کی جائے اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے محب سے پیار کرنے اور اس کی تائید میں لگ جاتا ہے۔جیسے فرمایا ہے غلام در گمیش باش و بعالم بادشاہی کن نباشد یم از غیرے پرستاران حضرت را تو از دل سوئے یار خود بیا تا نیز یادر اید محبت می کنند با جذب روحانی منیت را ور ثمین ۲۰) پس دکھ اور تکلیف تو دور کی بات ہے۔انہیں اس کا خدشہ بھی نہیں رہتا۔گرفتاری اور رہائی میں صنعت تضاد ہے۔گرفتاری اس لئے کہا کہ محبت اپنی کوشش سے پیدا نہیں کی جاسکتی۔جبب حالات سازگار ہوں۔تو یہ خود بخود چمک اٹھتی ہے۔انسان کے اپنے اختیار کی بات نہیں۔- اس شعر کے مضمون کو ایک اور جگہ یوں بیان فرمایا : بجز اسیری عشیق بخش رہائی نیست ؛ بدرد او همه امراض را دوا بات کے پھر اسی مفہوم کو یوں ادا کیا اسے دور ثمین ص۲) کشاد کار بدل بستن است در محبوب به چه خوش رنے کر گرفتار او را بات کده در تمین ) اس کی درگاہ کا غلام بن اور دنیا پر حکومت کی۔خدا پرستوں کو اور کسی سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔تو دل سے اپنے یار کی طرف آجا تادہ بھی تیری طرف آئے کیونکہ جذب روحانی کی وجہ سے ایک محبت دوسری محبت کو کھینچتی ہے۔ے :۔اسے طلاق بھی کہتے ہیں یعنی کلام میں ایسے دو الفاظ کا آنا جن کے معنوں میں تقابل تضاد ہو۔کے اس چیز کی قید کے سوا کہیں کوئی آزادی نہیں اسکاور رہی سب بیماریوں کا علاج ہے کہ مجھ سے دل لگاتے ہی ہیں اس کامیابی ہے۔وہ چہرہ کی ہی مبارک ہے جس کا گر زیدہ در اصل آزاد ہے :