درثمین فارسی کے محاسن — Page 44
نعت میں حضرت اقدس رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنی عقیدت کا یوں اظہار فرماتے ہیں : در دلم جوشد، ثنائے سروے : آنکه در خوبی ، ندارد ہمسرے آنکه جانش، عاشق یارِ ازل : آنکه روحش، واصیل آن دلبر ے آنکه مجذوب عنایات حق است : ہمچو طفلے پر وریده، در برے آنکه در بروکرم ، بحر عظیم با آنکه در مطلب اتم ، یکتا در سے آنکه در جود و سخا ، ابر بهار بی آنکه در فیض و عطا، یک خاورے ان رحیم و رحم حق را ، آیتے ؟ آن کریم وجود حق را ، مظہرے آن ریخ فرخ ، که یک دیدار او به زشت رو را میکند خوش منظر آن دل روشن، که روشن کرده است : صد درون تیره را ، چون اختر سے اں مبارک ہے کہ آمد ذات او : رحمتے ، زاں ذات عالم پرور ہے احمد آخر زماں ، کنه نور او با شد دل مردم، زخور تاباں ترے ور ثمین: مث ) ے میرے دل میں اس شہنشاہ کی مارچ جوش زن ہے گرسن و خوبصورت میں اسکا کوئی ثانی نہیں۔وہ جس کی جان محبوب زنی کی عاشق ہے۔وہ جس کی شرح کو اس دہر کا اصل حاصل ہے۔وہ جسے حق تعالی کی عنایات نے اپنے اندر سمیٹ رکھا ہے۔اور ایک بچہ کی طرح خدا کی گود میں پلا ہے۔وہ جونکی اور بندگی میں ایک بحر عظیم ہے۔وہ جو انتہائی خوبی میں ایک بے مثال ہوتی ہے وہ جو سخاوت اور بخشش میں ابر بہار ہے۔وہ جو فیض و عطا میں ایک سورج ہے۔وہ خود بی رحم ہے اوراللہ تعالی کی رحم کا نشان بھی الیعنی یہ مند عالمین ہے، وہ خود بھی سنی ہے اوراللہ تعلی کی سماد کا منہ بھی ہے۔اس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اس کا ایک ہی جودہ شکل کو خوابی و ور بنا دیتا ہے۔وہ ایسا روشن نیمیر ہے جس تی سینکڑوں سیاہ دنوں کو ستاروں کی طرح چمکا دیا۔وہ ایسا مبارک قدم ہے جس کی ذات ، ذات باری تعالٰی کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہے یعنی وہ احمد آخر زماں جیکی نور سے اس نے نور پایا۔اس نور سے لوگوں کے دل آفتا سے بھی زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔