درثمین فارسی کے محاسن — Page 307
نمبر شمار نام شاعر ۱۳۳ سعدی اشعار اس وقت میرے سر پر گویا تاج تھا ، جب میرے سر پہ باپ کا سایہ تھا۔اگر به وجودم نشستے مگس : پریشان شد سے خاطر چند کس اگر میرے جسم پر کوئی بھی بھی بیٹھ جاتی ، تو بہتوں کے دل پریشان ہو جاتے۔(الحکم، در اکتوبر باشد) ۱۳۵ حافظ چو کار عمر نہ پیداست باسے این اولی ہے کہ روز واقعہ پیش نگار خود باشیم جب شہر کا معامہ پوشید ہے ، توبہتر ہے کہ ہم موت کے آنے کے ان جو کے سامنے ہوں۔الحکم ۳۱ اکتوبن شاه) ۱۳۶ امیر خسرو آنچه خوبان همه ارند تو تنہاداری۔ترجمہ: وہ تمام خوبیاں نجومیوں میں پائی جاتی ہیں وہ سب تیری ذات میں جمع ہیں۔(الحکم ، تومیر نشده) ۱۳ ۱۳۸ ۱۳۹ نا معلوم نا معلوم نظامی بین دانش شان که این خوش بیا پس از دے چینی ناز و کبر و ادا ان کی سمجھد دیکھو کہ اتنی اچھی عمارت شکل) کے باوجود ایسا تکبر اور ناز و ادا۔الحکم بر مسیر را شاهد) عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد - ترجمہ خدا ہے تو ٹی بھی بھائی کا ذریع بن جاتا ہے۔الحکم ار دسمبر رانا نشاط نوجوانی تا به سی سال چو چپل آمد فرو ریز پرو بال نو جوانی کی فرصت تیس سال تک ہوتی ہے ، جب چالیس سال ہوئے سبائل پر جھڑ جاتے ہیں۔۱۳۰ امیر خسرو موٹے سپید از اجل آرد پیام - ترجمہ : سفید بال مرگ کا پیغام لاتے ہیں۔البدر ۱۲ دسمبر ستار)