درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 284 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 284

۲۲ - کجا هست امروزه آن لیکھرام؟ با یک شنبه گویند سر خاص و عام آج وہ لیکھرام کہاں ہے ، اتوار کے دن سب خاص عام پوچھ رہے ہیں۔- ۲۳ بدین عمر میداشت طبع درشت به نه انسان که دست خدایش بکشت اس عمر میں اس کی طبیعت بہت سخت تھی ، اسے کسی انسان نے نہیں بلکہ خود خدا نے قتل کیا ہے۔تریاق القلوب صا) -۲۴ نصرت وفتح و ظفر تا بیست سال دانای، ترجمہ: مد فتح اور کامیابی بی سال تک حاصل ہو جائیگی (تذکره ۵۱۲۰) -۲۵ معنی دیگر نه پسندیم ما (ابهامی) ترجمہ : ہم کوئی دوسرے معنے پسند نہیں کرتے۔٠٢٨ - ۲۹ دالحکم ۲۴ مئی - شار) شعر جہاں عشق بر جسے آشکار (الہامی ) ترجمہ : عامر محبت اس پر منکشف ہو گیا۔آنذکره شود) سرانجام جاہل جہنم بود (الهامی که جابل نکو عاقبت کم بود جاہل کا انجام جہنم ہوتا ہے، کیونکہ جاہل کا خاتمہ بالخیر کم ہی ہوتا ہے۔یہ شعر شیخ سعدی کا ہے) (البدر به رجون تنشه) عجب دارم از لطف ہے گردگار پذیرفته چون من خاکسار اے پروردگار میں تیری مہربانیوں پر حیران ہوں کہ تو نے میرے جیسے ناچیز کو قبول کر لیا ہے۔پسندید گانے بجائے رسند : زما کہتر انت چه آمد پسند پسندیدہ لوگ تو کسی مرتبہ تک پہنچ سکتے ہیں ، ہم جیسے حقیروں کی کونسی چیز تجھے پسند آ گئی۔چو از قطره حلق پیدا کنی : ہمیں عادت اینجا ہویدا کنی