درثمین فارسی کے محاسن — Page 264
ابر آب داد بیخ درختان تشنه مرا به شارخ بر مسند پیران از تو بهار کرد چند اخوان که اون دوران روزگار ی خروش چنان کوفت که خاکش غبار کرد قارن زدین برآمد و دنیا بر و نماند بازی رکیک بود که موشی شکار کرد بعد از خدائی هر چه سندند اینچ نیست با ہے دولت آنکه بر هم پیچ اختیار کرادی یہ اشعار قصیدہ میں ایک ہی جگہ نہیں، بلکہ مختلف مقامات پر ہیں۔قصیدہ کا موضوع حمد و شکر باری تعالٰی ہے جس کے بعد دنیا کی بے وقعتی کی طرف گریز کیا ہے۔حضرت اقدس نے اس قصیدہ کی بحر اور اس کے قوافی کو ایک دریدہ دہن مخالف حق کے رد میں استعمال فرمایا ہے اور کس خوبصورتی سے استعمال فرمایا ہے؛ سے آل عید تیره بخت کہ بند پائے اوست : شتر مثال بعض خوسے اختیار کرد فرعون شد و عناد کیسے بدل نشاند به یکسر خزان شد و گله ها از بهار کرد چون شحنه حق از بیٹے تعزیر او نجاست : چندای کوفتش که نقش چون غبار کرد تاریخ رو آن بزیانش چه حاجت است : صید کیک بود که موسی شکار کرده ۱۵۲ در ثمین منت ے ترجمہ : بادل نے پیاسے درختوں کی جڑوں کو پانی دیا ، اور نگی شاخ کوئی بہار کا لباس پہنایا۔چند ہڈیاں تھیں جنہیں زمانہ کے باون (چٹو نے اتنا باریک کوٹا کر ان کی مٹی کو غبار بنا دیا۔قارون دین سے نکل گیا، لیکن دنیا بھی اس کے پاس نہ رہی ، وہ ایک ذلیل باز تھا جسنی ایک چودہ شکار کیا۔خداکے بعد انہوں نے جو کچھ بھی پسند کیا وہ بے حقیقت تھا ، بد قسمت ہے وہ جو دوسری سب چیزوں پر کسی بے حقیقت چیز کو تر جیح دے۔کے ترجمہ : اس بدبخت شکار نے جس کے پاؤں میں زنجیر ٹڑی ہے، جگاڑ کی طرح استیج سے، دشمنی اختیار کی۔اس نے فرعون بن کر ایک کلیم اللہ کی عداوت دل میں بٹھالی۔وہ بالکل خزاں بن گیا، اور نگا موسم بہار کا گلہ کرتے۔جب راستی کا کو تواں اسے سزا دینے کے لئے اٹھا ، تو اس نے اسے اتنا کوٹا کہ اس کا بدن غبار کی طرح کر دیا۔اس کے بجواس کے درد کی تاریخ لکھنے کی کیا ضرورت ہے ، وہ ایک حقیر شکار تھا جسے موسی نے مار گرایا۔