درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 178 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 178

(CA چه دور نها که میدیدم بدیدار چنین رویا به بنازم دلبر خود را که بازم داربست در اه دور ثمین ) بد بوئے حاسدان نرساند زیان بر من : من هر زمان زنانه یادش معطر مم ور ثمین ) آن دیده که نور سے نگرفت ست ز فرقان : حقا که همه عمر ز کوری نه رسیده دور ثمین شش از کس و ناکسی بیاموزی فنون : عار داری زمان حکیم ہے چھوں کلمه جسم خود بکن برباد : چون نمی گردد از خدا آبادی دور ثمین منت ور ثمین (۳۵) عناصر اربعہ کا ذکر بھی اسی صنعت طباق میں شامل ہے۔جیسے " قمر و شمس و زمین و فلک آتش و آب به همه در قبضه آن یار عزیز اند اسیر اور ثمین طلا لہ ترجمہ : ان کے چہرے دیکھنے سے میں کیسے کیسے اور دیکھتا ہوں مجھے اپنے بیر بیان ہے کہ اسے مجھے پھرجب علی سے ترجمہ : حاسدوں کی بدبو مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ میں ہر وقت خدا کی یاد کے نافہ سے معطر رہتا ہوں۔کے ترجمہ : وہ آنکھ جنسی قرآن سے نور حاصل نہیں کیا۔خدا کی قسم وہ ساری عمران سے پن سے خلاصی نہیں پائیگی۔سے ترجمہ، تو ہر کس و ناکس سے ہنر سیکھتا ہے، لیکن اس لاثانی دانشور سے تجھے شرم آتی ہے۔ے ترجمہ: تو اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کر دے، اگر وہ خدا کے عشق) سے آباد نہیں ہوتی۔ن ترجمہ : چاند، سورج، زمین، آسمان، آگ اور پانی سب اس عزت والے دوست کے قبضہ میں قید ہیں۔