درثمین فارسی کے محاسن — Page 60
تیسرے شعر می نتائج کا لفظ بہت پر تکلف ہے۔مراد یہ ہے کہ عاشق کے لئے جو کچھ ہے تیرے رخ روشن کی محبت ہے۔یہی اس کی کمائی ہے، مال و دولت ہے، پونجی ہے ، اس کے علاوہ اس کے پاس اور کچھ نہیں لیکن یہ کوئی مولی چیز نہیں حاصل زندگی ہے۔یہ ایسی نعمت ہے جو کسی خوش قسمت کو ہی ملتی ہے اور اسے دنیا جہان سے بے نیاز کر دیتی ہے، اسے ایک ہی چیز یاد رہ جاتی ہے، اللہ ہو، اللہ ہو۔اس دولت کے چھپانے کو حضرت اقدس نے غداری قرار دیا ہے۔کیونکہ عیشق دکی دوت) کوئی قابل شرم یا ادنی حیثیت کی چیز نہیں بلکہ یہ علم الہی ایسا خزانہ ہے جس کی کہیں کوئی نظیر نہیں ملتی۔پس اس کو چھپانا معطلی حقیقی کی ناشکری اور گستاخی ہوگی۔نیز اس دولت کے ملنے پر کچھ ذمہ داریاں بھی عاید ہوتی جاتی ہیں یعنی اس دولت سے بنی نوع انسان کی خدمت کرنا اور اس کے منبع سے خلق خدا کو روشناس کرانا۔اگر کوئی شخص یہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرتا۔تو گویاوہ محبوب حقیقی سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔حضرت اقدس نے جس طرح اس دولت کو لٹایا ، وہ ظاہر وباہر ہے۔آپ نے اس شمع حسن کے پروانوں کی ہزاروں کی نہیں لاکھوں کی ایک مجبات پیدا کی جس کی مثال رسول مقبول صلی اللہ علیہ سلم کے بتدائی فدائیوں صحابہ کرام کے سوا اور کہیں نہیں ملتی، اور جس میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے۔چوتھے شعر کو کما حقہ سمجھنے کے لئے رندی سے بھی کچھ واقفیت ہونی چاہیے۔اس سے ہر جگہ کوئی غیر اخلاقی امر مراد نہیں ہوتا بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنی جان اور عزت کی پروا نہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر محبوب کا دامن تھام لیا جائے، اسے جرات رندانہ کہتے ہیں۔جس طرح دیوانگی سے ہر جگہ فقدان عقل مراد نہیں ہوتی۔اسی طرح رندی سے بھی ہمیشہ کوئی گناہ کی بات متصور نہیں ہوا کرتی۔حضرت اقدس ظلوما جھولا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔یہ دونوں لفظ ظلم اور ضالت اگرچہ ان منوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ