درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 57 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 57

دیکھیئے صرف چار شعر ہیں جو ذات باری تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں لیکن راز ونیاز کی کوئی رمز نہیں جو ان سے باہر رہ گئی ہو، ذیل میں ان اشعار کے مطالب ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں : لذیذ بود حکایت دور از تو گفتم که ہزار فارسی زبان میں گنتی کا آخری لفظ ہے۔اس لئے یہاں اس سے بے شمار مراد ہے۔بیماری سے مراد ہر وہ خیال اور عمل ہے جو انسان کی روحانی ، اخلاقی اور جسمانی نشو و نما کے لئے مضر ہو۔اور ان سب کا علاج اپنے پروردگار کی محبت میں ہے۔دوسرے مصرع میں آپ قسم کھاتے ہیں۔قسم بھی علم بلاغت کی رو سے من کلام کو بڑھانے کا ایک عجیب ذریعہ ہے۔بشرطیکہ جس چیز کی قسم کھائی جائے وہ زیر نظر معامہ کے لئے شاہد صادق کا درجہ رکھتی ہو۔یہاں آپ نے محبوب کے چہرہ کو بطور گواہ پیش کیا ہے۔محبت کی وارداتوں کے لئے محبوب کے چہرہ سے زیادہ سچا گواہ اور کون ہو سکتا ہے کیونکہ چہرہ ہی حسن کی اصل جلوہ گاہ ہے ، اور حسن ہی محبت کا باعث بنتا ہے۔پس جب انسان کسی کی محبت میں گرفتار ہو جائے تو اسے اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔گویا وہ ہر دکھ تکلیف سے چھوٹ جاتا ہے۔بلکہ محبوب کی راہ میں اسے جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ اس کے لئے لذت اور سکون کا باعث اور محبوب کی توجہ کو اپنی طرف پھرانے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔لہذا عاشق صادق ایسی تکالیف بخوشی برداشت کرتا ہے، اور ترقی کرتا کرتا ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ مجبوب کی راہ میں قربانی پیش کرنے کے سوا اور کوئی چیز اس کیلئے خوشی اور راحت کا باعث نہیں رہ جاتی۔اس رہائی کے اور بھی پہلو ہیں۔ایک یہ کہ راضی برضائے یار ہونا جیسے فرمایا : دل پنهادن در آنچه مرضی یار به صبر زیر مجاری اقتدار له ے :۔داستان بہت لذیذ تھی۔اس لئے میں نے اس کے بیان کو بہت طول دیا ؟ تے :۔جو یار کی مرضی ہو اس پر راضی ہونا۔اور جاری شدہ قضا و قدر پر صبر کرنا : ور ثمین