درثمین فارسی کے محاسن — Page 56
۵۶ ذاتِ باری تعالیٰ کا عشق بعض شاعر اور مصنف تو اپنی کتب کی ابتدا ر کمی طور پر حمد اور نعت سے کرتے ہیں۔کیونکہ قدیم سے یہی رواج چلا آرہا ہے۔لیکن جن بزرگوں نے پورے شوق اور اخلاص سے اس کو چہ میں قدم رکھا ہے ان میں بھی حضرت مسیح موعود کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔آپ نے اس رواج کے مطابق بھی حمد باری تعالی بیان کی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے نام سے ہر کام کی ابتدا کرنا بڑی برکات کا موجب ہے لیکن آپ نے اس پر اکتفا نہیں کی، بلکہ اپنے کلام میںجگہ جگہ بار بار خدائے برتر کی صفات بیان کرنے کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔چنانچہ آپ کے کلام میں سب سے زیادہ جن امور کا ذکر آتا ہے۔وہ عشق باری تعالیٰ اور محبت رسول کریم ہی ہیں۔اور آپ ایسے والہانہ طریق پران کا ذکر کرتے ہیں کہ قاری کا دل بھی اپنی کیفیات سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس سلسلہ میں چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔آپ اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کی ابتدا میں فرماتے ہیں : سے محبت تو دوائے ہزار بیماری است : بروئے تو کہ رہائی دریں گرفتاری است پناہ رُوئے تو جتن نہ طور مستانست : که آمدن به بن بست کمال ہشیاری است متاع میر شیخ تو نہاں نخواهم داشت به کر خفیه داشتن عشق تو نه غداری است برای سرم کہ سر و جان فدائے تو بکنم که جان بیار سپردن حقیقت یاری است درشین صا له : تیری محبت ہار بیماریوں کی دوا ہے، تیرے ہی منہ کی قسم کہ اسی گرفتاری میں اصل آزادی ہے تیرے چہرے کی پناہ ڈھونڈنادیوانوں کاکام نہیں کیو کرتیری پنا میں آناتوبڑے ہی ہشار لوگوں کاکام ہے میں تیری محبت کی پونی کو بھی نہیں چھپاؤں گا۔کیونکہ تیتر عشق و چھپانابھی اک قسم کی غداری ہے میں اس دین میں ہو کہ سرادران تجھ پر ان کروں کو کرنے کے جوسے پر کردیتای یاری کی حقیقت ہے :