درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 55 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 55

۵۵ مولانا جامی کا کلام تو سرا سران فتون کی نمائش پر مبنی ہے۔کئی جگہ ان فنون کی کثرت کی وجہ سے معنے بالکل ہی گم ہو گئے ہیں۔بعض جگہ لفظوں کے ہیر پھیر سے کلام میں چاشنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔دیکھئے امیر خسرو کا تیسرا اور چوتھا شعر اور مولانا جامی کا دوسرا، تیسرا اور چوتھا شعر۔مگر حضرت اقدس کے کلام میں معانی کو کہیں بھی فنون باغت پر قربان نہیں کیا گیا۔بلکہ سیدھے سادے لیکن مفہوم کے عین مطابق الفاظ چن کر اور انہیں ماہرانہ ترتیب دیگر کلام میں ایسا حسن پیدا کر دیا جو دوسروں کے پُر فنون اشعار میں بھی پیدا نہیں ہوسکا۔اصل بات یہ ہے کہ جو مفہوم بیان کرنا ہو، اگر وہ خود خوبصورت اور دلنشین ہو تو اس کے لئے سادگی ہی بہترین زیور ہے۔ورنہ زیورات کی بہتات حسن کی چمک کو ماند کر دے گی یا بالکل روپوش کر دے گی۔مثلاً مولانا جامی کا یہ شعر دیکھئے اسے بیس سالخور در هر گز آغاز بعثتش ؛ رفته چو کودکان بسرلوح المجد ست کیا آپ کو اس شعر میں کسی ایسی خوبی کا بیان دکھائی دیتا ہے جو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم سے متفق ہو۔یہ تو ہر نبی کے زمانہ میں ہوتا رہا ہے بلکہ دنیاوی امورمیں بھی ترقی چھوڑ تنزل کے وقت میں بھی یہی ہوتا ہے، آجکل یورپ اور امریکہیں ٹینس بوڑھے طوطوں کو بے حیائی کے کیسے چھوتے سے اچھوتے سبق پڑھا رہی ہے۔اس کے بالمقابل حضرت اقدس کی بیان فرمودہ نعت کا کوئی شعر لیجئے۔اس میں آپ آنحضرت اللہ علیہ وسلم کی صفات حسنہ ستاروں کی طرح چمکتی پائیں گے ، مثلا سے آنکه مجذوب عنایات حق است : ہمچو طفلے پر وریده در بری دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو بیحد و شمار عنایات ہیں ان کے لحاظ سے آنحضرت ی بلندشان یا اظہار ی طرح اس شعر سے ہوتا ہے اس طرح دوسرے شعر کی نعتوں کے کسی شعر سے نہیں ہوتا ؟