درثمین فارسی کے محاسن — Page 192
۱۹۲ الله الله چه ریخت از انوار با است و شیع دگر در آن گفتا لله در ثمین نا) تبدیل کرہ قائمقام علم اور علم قائمقام نکرہ جیسے۔مصطفے آئینہ روئے خُداست : منعکس درد سے ہماں خوئے خداست در ثمین منت از عنایات خدا و فصل آی اوار پاک : من فرعونیانم بر عشق آن کلیم در همین شه) نه بلغم است که بدتر از بلهم آگی ناداں کہ جنگ او بیلیم حق از ہوا بات ہے دور مین ط۲) ہجو کسی چیز کی مضرت یا عیب کو عمدہ تشبیہ وغیرہ سے بیان کرنا جیسے سے گرخدا از بنده خوشنود نیست به پیچ حیوانی چو او مردود نیست در ثمین خش) این طبیعت ہائے شان چون سنگهاست : در بریشاں گردے بودے کجاست؟ ور ثمین ) ے ترجمہ : اللہ للہ کیسے کیسے انوار اس نے بکھیرے ہیں، اس کلام میں تو اور ہی طرح کا فیضان ہے۔سے ترجمہ : محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسم تو خدا کے چہرہ کا آئینہ ہیں، اس میں وہی خدا کی صفات منعکس ہیں۔خدا کی مہربانیوں اور اس منصف ذات پاک کے فضل سے اس کلیم آنحضرت کے عشق کی وجہ سے فرعونی صفت لوگوں کا دشمن ہوں ، وہ نادان شخص نہ صرف بلعم ہے، بلکہ بلعم باعور سے بھی بدتر ہے۔جس کی لڑائی خدا کے کلیم سے ہوائے نفس کی وجہ سے ہو۔سے ترجمہ : اگر خدا کسی بندہ سے خوش نہیں، تو کوئی بھی حیوان اس جیسا مردود نہیں ہے۔انکی یہ بیعتیں پھر کی طرح سخت ہیں ، ان کے پہلو میں اگر کوئی رترم ، دل ہے۔تو کہاں ہے۔