درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 177 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 177

164 ارد گرد سے جمع کرکے گویا آنسوؤں کی سیاہی ڈالی جاتی ہے۔سواد سے مراد وہ نیلاہٹ بھی ہو سکتی ہے جو غم کے باعث آنکھوں کے گرد چھا جاتی ہے سے ز ہے نحو آی بود نحو سداد : همه منطقم صرف آن نحو باد در زمین ها ) صرف کے دوستی ہیں۔علم صرف اور خرچ کرنا۔مناسبات کی بنا پر پہلے علم صرف کا خیال ہوتا ہے۔اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خرچ کرنا مراد ہے۔طباق :- جسے متضاد بھی کہتے ہیں۔یہ ہے کہ ایسے دو لفظ شعر میں جمع ہوں ، جن کے معنوں میں تعتاد ہو۔یعنی ایک معنی دوسرے کے خلاف ہوں۔اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔مثلاً دونوں لفظ اسم ہوں یا فعل یا حرف یا ملے جلے۔یا نفی یا کنایہ سے تضاد پیدا کیا گیا ہو وغیرہ۔لیکن ان کی تشریح کرنے سے بات بہت لمبی ہو جائے گی اس لئے چند مثالوں پر اکتفا کیا گیا ہے۔متضاد الفاظ پر خط کھینچ دیا گیا ہے۔یہ صنعت بہت کثرت سے استعمال ہوتی ہے : هست جام نیستی آب حیات : هر که نوشیدست اورست از همات خویشتن را نیک اندیشیده : اسے ہلاک الله چه یک فہمیدہ در زمین ) د در ثمین صنت) چون بیفتی با دوصد در دو نغیر : کس ہے خیزد که گردد دستگیر در ثمین ترجمہ: واہ وا ! اس کا علم نحو راستی کا پہلو لئے ہوئے ہے۔میری تمام منطق اس نحو پر صرف ہو۔سے ترجمہ ، نیستی کا جام ہی اصل میں آب حیات ہے جسنی وہ پی لیا وہ موت سے خلاصی پاگیا۔تونے اپنے تئیں نیک واتا خیال کرلیا ہے۔خدا تجھے ہدایت کرے تو نے کیا غلط سمجھاہے جاتا ہے کرواتا ہے اتراتا ہے