درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 109 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 109

۱۰۹ اگر جہاں ہمہ تحقیر من کند ، چہ مجھے : که با من است قدیرے کہ ذوالعلی باشد تنم مسیح زمان و ختم کلیم هندا به مسلم محسند و احمد اکر می باشد ر در ثمین ۲-۲۷) ۵۔ہمچنیں عشقم بروئے مصطفے : دل پر وچوں مُرغ ، سُوئے مصطفے تا مرا دادند از حسنش خبر : شد دلم از عشق او زیر و زبر من کہ مے بینم رخ آی دلبر ے 4 جاں فشانم، گردید دل دیگرے ساقی من ہست آں جہاں پروری ؛ ہر زمان هستم کند از ساغر محور دے او شدست ، ایں کروٹے من : بُوئے اوآید ، ز بام و کوٹے من بسکر من در عشق او هستم نہاں من بمانم ، من ہمانم ، من ہماں جان من، از جان او يا بد غذا : اگر گھر بیانم عیاں شُد آن وکا احمد اندر جان احمد شد پدید : اسم من گردید، آن اسم وحید ن دور مین ۲۳ مه ترجمہ: اگر سارا جہان بھی مجھے حقارت دیکھے توکیا کر کیونکہ میرےساتھ وہ قادر خدا ہے جوسب بندیوں کا مالک ہے۔میں ہی زمانے کا بیج ہوں، میں ہی خدا کا کلیم موسی ہوں میں ہی محمد ہوں، احمد ہوں جو خدا کا ہر گزیدہ ہے۔کے ترجمہ : ایسا ہی عشق مجھے محمد مصطفے کی ذات ہے میرادل چندہ کی طرح مصطفے کی طرف اڑا جاتا ہے جیسے مجھے اس کے حسن آگاہ کیاگیا ہے مرد اسکی عشق میں بیقرار ہے ہیں جسے اس دور کا چہرہ نظرآرہاہے جان قربان کر دونگا داش شخص کے مقابلہ میں جو اسے صرف دل سے میراساتی وہی شرح کی پرورش کو نیوالا ثبوت ہے و ہر وقت اپنی محبت کی شراکہ) ایک ساغر سے مجھے سرشار رکھتا ہے۔میرا یہ چہرہ اس کے چہرہ میں محو ہو گیا ہے میرے مکان اور گلی کوچہ سے اسی کی خوشبو آرہی ہے۔میں اس کے عشق میں اس طرح لپیٹا ہوا ہوں، کہ میں وہی ہوں ہیں وہی ہوں ، میں وہی۔میری روح اسی کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے۔اور میرے گریبان سے وہی سورج (جیسا محبوب ) جھانک رہا ہے۔احمد، احمد کی جان کے اندر ظاہر ہوگیا۔میرا نام اسی لاثانی انسان کا نام بن گیا :