درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 107 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 107

1۔6 کے یکے ذرہ ذلیل و خوار و چه شود عاجز از تو آن دادار همه این راست است لافه نیست به امتحان کن ، گر اعترافی نیست وعدہ کیا ، یہ طالبیاں تک ہم ہے کا ذبم اگر ، اردو نشاں تک ہم من خود از بهرای نشان زادم دیگر از هر نغمے دل آزادم این سعادت پوبود، قسمت ما به رفته رفته رسید، نوبت نان است し دور نمین ۸۵) ۳ - انسان کامل کی علامات اور صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا اے نہیں حادثہ بنیاد دیں زجا ببرد اگر زقمت ما ظل شان جدا باشد ازمین بود ، که چه سال صدی تمام شود ؛ برآید آنکه بدین ، نائب خدا باشد رسید مرده زعیم ، که من یہاں مردم به که او مجدد این دین و رہنما باشد بوائے مائینہ ہر سعید خوابک بود به ندائے فتح نمایاں، بنام ما باشد ترجمہ : اسے و شخص جو ایک ذلیل و خوار زرہ کی مانند ہے۔تو اس عادل خدا کو کیسے بے بس بنا سکتا ہے ؟ یہ سب سچے ہے، کوئی مبالغہ نہیں۔اگر تونہ مانے تو ہمیں آزما لے میں تحقیق کرنے والوں سے غلط وعدہ نہیں کیا کرتا۔اگر اس کا پتہ نہ بتاؤں تو جھوٹا ہوں۔میں خود اسی نشان کو پورا کرنے کے لئے دنیا میں آیا ہوں اور دوسرے تمام فکروں سے آزاد ہوں۔چونکہ یہ سعادت ہماری قسمت میں تھی اسلئے ہوتے ہوتے ہماری باری بھی آگئی۔ہ تر جمہ : حادثات کی نمارت گری دین کی بنیاد اکھاڑ ڈالے اگر ان کا سایہ ہماری ملت سے دور ہو جائے۔اسی وجہ سے جب صدی کے سال ختم ہو جائیں تو ایسا شخص ظاہر ہوتا ہے تو دین میں خدا کا نائب ہوتا ہے مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی شخص ہوں جو اس دین کا مجدد اور رہنما ہے۔ہمارا جھنڈا ہر نیک بخت انسان کی بنیاہ ہوگا۔اور کھلی فتح کا نعرہ ہمارے نام پر ہوگا۔