درثمین فارسی کے محاسن — Page 59
دوسرے شعر کے الفاظ مستان اور ہشیاری میں بھی صنعت تضاد ہے۔اس شعر کا پورا مفہوم سمجھنے کے لئے پناہ اور ستان کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے کسی چیز کی پناہ لینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کر وہ چیز کسی دکھ یا خطرہ سے محفوظ کر دے۔اور مست سے یہ مراد ہے کہ کسی نشہ سے ہوش کھو بیٹھے۔آپ نے سنا ہوگا کہ جب لوگ کسی ایسے مست کو دیکھتے ہیں جنسی شراب وغیرہ کوئی نشہ نہ کیا ہو، تو کہتے ہیں کہ یہ جلوہ محبوب کو برداشت نہیں کر سکا۔اس لئے عقل کھو بیٹھا اور پاگلی ہو گیا۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ تم اسے پاگل مت خیال کرو کیونکہ جسے تم بے عقل اور بیوقوف سمجھتے ہو وہ تو عاقلوں کا عاقل ہے۔ہر گنہ مست بمعنی پاگل نہیں وہ بہت ہوشیار ہے جو حسن حقیقی سے آشنائی پیدا کر کے دنیا جہان کی جھوٹی لذتوں سے بے نیاز ہو گیا اور سب مصائب سے چھٹکارا پا گیا۔اسی مفہوم کو حافظ شیرازی نے یوں بیان کیا ہے ، اسے خیال زلف تو پختن نه کار خامان است که زیر سلسله رفتن طریق عیار ریست که لیکن یہ شعر اتنا فصیح و بلیغ نہیں جتنا حضرت اقدس کا شعر ہے۔اس کی وضاحت آگے زیر عنوان " اخذ " (ص ہذا کی گئی ہے۔ستان کے لفظ کی تشریح ایک جگہ حضرت اقدس نے خود بیان فرمائی ہے یعنی "جن کے دلوں کو اُن کے دوست حقیقی نے اپنی طرف کھینچ لیا اور اُن کے دلوں میں بیقراریاں پیدا کیں۔یہاں تک کہ ان کے دلوں پر محویت اور شکر اور عاشقوں کا ساجنون آگیا سوفتا نظری کی حالت اور جذب سماوی کے وقت اُن کے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں۔اور بعض واردات اُن پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بیہوشوں کی طرح ہو گئے یا د نور الحق حصہ اول (ص) یری زارکی کا دیا جلائے رکھا، اڈیو تیاری کاطریق ہے