درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 54 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 54

محبت الہی کی آگ کا ذکر مختلف پیراؤں میں بار بار کیا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اندرونی آگ کا پورا احساس اسی شخص کو ہو سکتا تھا جسکی اپنے دل میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل یہی آگ روشن تھی۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں : سے این اشتم راتیش مهر محمدی است و این آب من بر آب زلال محمد است به در ثمین صل ) اللہ تعالیٰ ان دونوں پاک روحوں پر ہمیشہ اپنی خوشنودی کی بارش برساتا رہے۔دوم : یہ کہ حضرت اقدس نے آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کے تعلق جو کچھ بیان فرمایا ہے۔اور بہت کچھ بیان فرمایا ہے۔اس کے لفظ لفظ کی تصدیق قرآن کریم سے ہوتی ہے۔لیکن ان دوسرے بزرگوں نے بعض ایسی باتیں بھی بیان کی ہیں جن کی تصدیق قرآن کریم نہیں کرتا۔خاکسار صرف ایک مثال پیش کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔تا خدا نخواستہ اس طرح کہیں آپ کی بے ادبی نہ ہو۔قرآن کریم تو انخصر صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند سے بلندشان بیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی بشریت کا اعلان بھی بار بار کرتا ہے۔کہیں براہ راست اور کہیں دوسرے انبیاء کے ذکر میں۔لیکن بعض لوگ قرآن کریم کے علی الرغم کسی نہ کسی بات میں انضرت صلی الہ علیہ سلم کو اور بشریت سے باہر نکالنا چاہتے میں تعجب کی بات تو یہ ہے کہ دوسرے تمام صوائج بشریت تو آپ کے لئے تسلیم کئے جاتے ہیں تو پھر ایک سایہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔جس کا بار بار ذکر کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔سورہ یہ کہ دوسرے بزرگوں کے کلیم میں کئی جو فنون لطافت کو منوں پر ترجیح دی گئی ہے خصوصاً لے : میری یہ آگ محمد کے عشق داہنی کی آگ کا ہی ایک صہ ہے اورمیرا یہ پانی حمد کے شیرین کا پانی ہی لیا گیا ہے ؟