درثمین فارسی کے محاسن — Page 52
مولانا جامی فرماتے ہیں : آئی را که بر سر افسر اقبال سرمدست به سرور که محمد و آل محمد ست فرنه ند کاف و نون اند افراد کائنات : احمد میان ایشان فرزند مجد ست مدی که مست بر مسیر آدم علامتی : نر آن میم دال والی که قدم گاه احتمارات آن تدرز چت دولت سرد نشانه بیست : آدم سرآمد همه عالم ازان مدرست پر کس نه مرتدی بزاری دری است به در راه دین مرید خوانش که مرتادست سرور گلیم فاقه و تن بر حصیر فقر : شاه بنزالہ صاحب دیہیم و مسندات خاک رمش جلاده چشم خرد بود : آنرا بنقد جان بخرد هر که بر دست سرویست قد او چمن آرائے فاشستیم به طوبا بباغ سدرہ ہوا دارای قدرت ی تلخ کلام کفر که بر خوان خوش به شیرین درمان چاشنی شهدا شهداست بس بس سالخور و ہر گز آغاز بهشتش : رفته چو کودکان بسرلوح ابجد ست دیوانِ کامل جاتی : حث : : جس شخص کے پروائی خوش قسمت کا تاج ہے اس کا محمد او یک محد کی راہیں قربان ہے، کاٹنا ہے ، فرد لفظ کن سے پیدا ہوئے ہیں۔ان کے درمیان احمد سب سے زیادہ معزز ہے۔یہ مت جو آدم کے سر پر بطور نشان لگی ہے اس میم دال کو محمد کے قدم رکھنے کی جگہ جو دو تہائی خوشالی کی چھتری کا نشان ہے، اس مد کی وجہ سے آدم تمام جہان کاسردار ہے ، ہر شخص جس نے آپ کی دوستی کی چار نہیں پہنی ہوئی۔اسے دین کی راہ میں ری مت کہو، وہ تو مرتد ہے۔آپ کا سر مبارک فاقہ کی گدڑی میں ہے اور جسم مبارک فقر کی چٹائی پر۔آپ ہزاروی صاحبان تخت ومسند کے شہنشاہ ہیں۔آپ کے راستہ کی مٹی جو عقل کی آنکھ کو روشنی بخشنے والی ہے اسے نقد جان دیکر ہر وہ شخص خریدتا ہے جو عقلمند ہے۔آپ ایسے سر کا درخت میں جسکا قد استقامت رکے باغ کو زینت بخشنے وال ہے درسدرۃ المنتی کے باغ میں طوبا کا درخت آپکے قدیر عاشق ہے کتنے ہی نامراد کفار ہیں انکی وقت کے خدا سے شکلات کیاہواتھا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایک یا ایک بار پہنے گیا؟