درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 46 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 46

3 دیئے ہیں۔اور الفاظ کی سادگی کے باوجود یہ تحت فصاحت و بلاغت میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔اور سلامت کلام کا نہایت ہی شاندار نمونہ ہے۔جصنائع بدائع کی کثرت کے متعلق صلاتا ہذا پر ناقدین فن کی آراء ملا حظہ فرمائیے۔پھر بھی یہ نعت فنون بلاغت سے بالکل خالی نہیں۔(جیسا کہ آگے ذکرہ آتا ہے، البتہ سلاست کلام کی خاطر ان کا کم از کم استعمال کیا گیا ہے۔نعت میں دوسرے بزرگوں کے مقابلہ میں حضرت اقدس کو جو سب سے بڑی فضیلت حاصل ہے یہ ہے کہ آپ نے آنحضرت کی بنیادی خوبیوں کو زیادہ اجاگر کیا۔خوب غور کیجئے ، انسان کو جوس ہے بڑی نعمت حاصل ہو سکتی ہے وہ ذات باری تعالیٰ کا عشق ہے۔یسو حضرت اقدس نے اسی سے اس محبوب الہی کی نعت شروع کی ( آنکه جانش عاشق یار انل) اور فرمایا کہ یہ عاشق اپنی مراد کو بھی پہنچا ہوا ہے۔اسے ذات باری تعالیٰ کا وصل حاصل ہے۔(آنکہ روحش و اصل آی دلبرے) عنایات حق کی شان دیکھئے ( ہیچو طفلے پر دریدہ در برسے) آگے ان خوبیوں کا ذکر کیا۔جو اس و طرفہ محبت کو لازم ہیں اور جن کی بنا پر اخر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس بنی نوع انسان کے لئے بور عظیم، کیاور، ابر بہار ، خاور ، خدای رحم اور جود کا مظہر، عالم پرور اور خور تاباں بن گئی۔دیر تشبیہات کتنی موزوں ہیں ؟ یہ محبت انسان کا حقیقی کمال ہے۔جیسے اوپر اور کوئی کمال انسان کے لئے متصور نہیں ہو سکتا۔غرض حضرت اقدس نے اس نعت میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بے شمار خوبیوں کے علاوہ اس دوطرفہ محبت اور اس کے فیضان کی ایسی خوبصورت تصویریں کھینچی ہیں کہ ان کی مثال آپ کے کلام کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔اس نعت کا مطلع بھی حسن مطلع اور صنعت براعتہ الاستملال کا بھی بہت ہی عمدہ نمونہ ہے۔گویا ی نعمت اپنی طبیعت کو بزور اس طرف مائل کر کے نہیں لکھی گئی، بلکہ بے اختیار دل کی گہرائیوں سے ابل رہی ہے۔جیساکہ فرمایا اور دل وشد شنائے سرور سے یعنی میرے دل میں اس