درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 45 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 45

은 اس نعت میں کسی خیالی امر کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ہر بات ٹھوس حقیقت پر مبنی ہے اور یہی فخر موجودات کی شان ہے، کہ آپ کے حقیقی محاسن اتنے روشن اور کثیر ہیں، کہ آپ کی مدح کو کتنی ہی وسعت کیوں نہ دی جائے، آپ کی خوبیاں ختم نہیں ہوسکتیں۔اور کوئی خالی یا فرضی محاسن آپ کی طرف منسوب کرنے کی ضرورت پیدا نہیں ہوتی۔آپ کی چند اصلی خوبیوں کا ذکر کرناہی آپ کو کامل انسان ثابت کرنے کے لئے کافی اور لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنانے کے لئے وافی ہوتا ہے۔لیکن حضرت اقدس نے صرف چند خوبیوں کے بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔بلکہ آگے اس نظم میں بھی اور دوسری نظموں میں بھی دل کھول کر آپ کی صفات حسنہ بیان فرمائیں، اور اپنی عقیدت کے پھول جھولیاں بھر بھر کہ آپ کے قدموں پر نشار کئے۔جن لوگوں کا مذاق بعض شعراء کے پیچیدہ کلام نے بگاڑ رکھا ہے ، وہ کہ سکتے ہیں، کہ اس نعت میں نہ کوئی رنگینی ہے اور نہ ہی زیادہ صنائع بدائع لائے گئے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان فنون کی ضرورت زیادہ تر وہاں ہوتی ہے جہاں بقول نظامی عروضی سمرقندی کسی بد نما چیز کو خوشنما ثابت کرنا ہو۔لیکن سرور دو عالم کی ذات والا صفات جیسی کوئی اور حسین ہستی تو دنیامیں کبھی پیدا نہیں ہوئی تو پھر آپ کے حسن کو دکھانے کے لئے مصنوعی سہاروں کی ضرورت کیسے ہو سکتی ہے ، حضرت اقدس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی اعلیٰ درجہ کی صفات بیان کی ہیں کہ انہوں نے ہی اس نعت کو اعلیٰ درجہ کی خوبصورتی خطا کر دی۔جیسے شیخ سعدی نے اپنے محبوب کے متعلق لکھا ہے سے مه خوبان عالم را بزلور یا بسیار اند : توی تن چنان خوبی که زیور با یارائی پس آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی خوبیوں کے سیدھے سادے بیان نے ہی اس نعت کو چار چاند لے : تمام عالم کے حسینوں کو زیوروں سے زینت دیتے ہیں۔تو ایسا خوبصورت ہے کہ زیوروں کو زینت بخشتا ہے ؟