درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 43 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 43

نعت نبی ور ثمین کی دوسری نظم نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے حضرت مسیح موعود کو حمد باری تعالی کی طرح نعت نبئی میں بھی بہت انہماک تھا۔آپ نے خالص نعتیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کے علاوہ آپ کا یہ بھی دستور تھا کہ کوئی بات ہو کسی امرکا بیان ہو آپ اس کا رخ سرور کائنات کی ذات مبارک کی طرف پھیر لیتے۔اور آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا ذکر شروع کر دیتے تھے۔جیسا کہ آگے متعدد اقتباسات سے واضح کیا جائے گا۔عاشق زار در همه گفتار به سخن خود را کشد بجانب یاری تشحید الازمان بجنوری نشار) نعت عمو نا قصیدہ کی شکل میں لکھی جاتی ہے جس کے لئے کوئی بحر مخصوص نہیں۔یہ نعت بحر ایل مسدس مقصور یا محذوف (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن یا فاعلان) میں ہے۔اس ه :- عاشق زار اپنی بات کا رخ ہمیشہ اپنے محبوب کی طرف پھیر لیتا ہے ؟ شہ کسی نظم کے وزن کے معلوم ہونے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اسکی اشعار پڑھتے وقت قاری غلطی سے محفوظ رہتا ہے۔کیونکہ اگر کسی مصرع کی قرارت متعلقہ نظم کے وزن کے مطابق نہ ہو۔تومعلوم ہو جاتا ہے کہ وہ مصرع درست طور پر نہیں پڑھا گیا۔چنانچہ خاکسار نے اس درثمین کی تمام نظموں اور متفرق اشعار کے وزن ضمیمہ نمبر میں درج کر دئے ہیں۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے۔کہ حضرت اقدس کے کسی شعر کے وزن میں کہیں کسی قسم کا کوئی سقم یا نقص نہیں، خاکسار نے ہر مشرع کے وزن کی پڑتال کی اور اسے متعلقہ نظم کے وزن کے مطابق پایا۔سوائے ان اختلافات کے جو ایک ہی نظم کے مختلف مصرعوں میں جائز اور روا ہیں :