درثمین فارسی کے محاسن — Page v
تحملة ونصلى على رَسُواة الكريمة تعارف میاں عبد الحق رامہ 1899ء میں اپنے آبائی گاؤں موضع بھا گورائیں تحصیل سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں پیدا ہوئے۔کچھ خاندانی بزرگوں کی روایت کے مطابق آپ کے آبا و اجداد عرب حملہ آوروں کے ساتھ آٹھویں صدی عیسوی میں شام سے سندھ آئے اور پھر وہیں آباد ہو گئے۔اٹھارہویں صدی میں رامہ صاحب کے آبا واجداد نے سندھ سے پنجاب آکر موضع بھا گورا ئیں آباد کیا۔انکا پیشہ کا شتکاری تھا۔چنانچہ رامہ صاحب کے دادا محترم منور خاں صاحب گاؤں کے نمبر دار تھے اور انکی وفات کے بعد رامہ صاحب کے چا نمبردار بنے۔میاں عبدالحق رامہ کے والد منشی خدا بخش صاحب اپنے چار بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پر تھے ابتدائے عمر سے ہی عبادت گزار تھے اور دینی معاملات کا شغف تھا۔عمر بھر درویش کے طور پر مشہور رہے۔ایک پختہ خاندانی روایت کے مطابق منشی خدا بخش صاحب کو خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی اور بتایا گیا کہ یہی وہ مسیح موعود ہے جن کے آنے کا وعدہ تھا۔اور خواب میں قادیان کی بستی کا کچھ حصہ ڈھاب وغیرہ آپ کو دکھایا گیا۔خواب کے بعد کافی عرصہ تک جستجو کی کہ معلوم ہو سکے وہ مسیح موعود کہاں ہے۔کسی نے ہریانہ کے علاقہ میں آپ کو اطلاع دی کہ قادیان جاؤ وہاں ایک حص مرزا غلام احمد ہیں جنہوں نے براہین احمدیہ کھی ہے ان کا پتہ کرو۔چنانچہ آپ 1884ء میں قادیان پہنچے۔آپ کا بیان ہے کہ (1)