درثمین فارسی کے محاسن — Page 14
۱۴ نظم ہے۔یرمیاہ سلیمان اور موسی کی نظمیں تورات میں ہیں۔اس سے ثابت ہوا کر نظر گناہ نہیں۔ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو۔میں خود الہام ہوتے ہیں بعض ان میں البدر ۲۷ مارچ ۱۹) سے مقفی اور بعض شعروں میں ہیں۔بعض پاکیزہ مزاج لوگوں کے نزدیک شاعری کے معتوب ہونے میں خود شعراء کو بھی بڑا دخل ہے۔کیونکہ عام طور شاعری کے صرف دو مقصد قرار پا گئے تھے۔ایک حصول شہرت اور دوسرا جلب منفعت۔ان اوٹی اور حقیر مقاصد کے لئے بہت سے شاعروں نے اخلاقی پستی کی انتہائی گراوٹ تک پہنچنے سے بھی دریغ نہ کیا۔عوام کو اپنا گرویدہ بنانے کے لئے مزاج کو پھکڑ بازی تک پہنچایا۔اور امراء کو خوش کرنے کے لئے ان کی بیجا تعریفوں اور ستائش کے طومار باندھتے رہے۔بظاہر پاکیزہ محبت کے جذبات اور احساسات بیان کرنے کے بہانہ سے سفلی جذبات کو خوب خوب بر انگیختہ کیا۔اگر کسی جگہ انہیں مطلوبہ قبولیت حاصل نہ ہوسکی تو انہوں نے ترک وطن سے بھی دریغ نہ کیا۔چنانچہ مغل عہد حکومت میں ایران کے متعد جید شعرا مثلا عرفی ، نظیری، طالب آملی ، قدسی، ابوکلیم وغیرہ ہند وستان چلے آئے ،تا مغل حکمرانوں کی داد و دہش سے متمتع ہوسکیں۔طالب آملی خود کہتا ہے " در آبه هند و به بین گرتبه سخا و سخن به که منبع سخن و معدنِ سخا اینجاست به سهند جوہر یا نند قدر فضل شناس به رواج گوهر دانش بمدعا اینجاست اسی طرح ابو طالب کلیم کہتا ہے۔اسیر کشور بندم که انه وفور سرور : گدا بدست گرفت است کا سر طنبوره ہندوستانی آؤ اور سخاوت اور شاعری کا مربہ دیکھو کیونکہ سن کلام کا منبع اور فیاضی کی کان یہیں ہے۔یہاں ایسے جو ہری ہیں جوعلم وفضل کی قدر جانتے ہیں۔دانائی کے موتیوں کی سوداگری یہیں اپنے مقصد کو پہنچتی ہے۔نے میں تو ملکت ہند کا گروید ہوں جہاں خوشی اور شادمانیکی وجہ سے ایک انکے وہاں بھی بیوی کو اپنا کاسٹ رائی بالیا