درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 13 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 13

۱۳ مگر یہی پیشہ اختیار کر لینا ایک منحوس کام ہے۔رالحکم ۳۰ رجون والبدر ۲۷ جون بانشاه) راسی طرح ایک دفعہ اشعار اور نظم پر سوال ہوا اور حضرت اقدس نے) فرمایا :- نظم تو ہماری اس مجلس میں بھی سنائی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ ایک شخص خوش الحان کی تعریف سن کر اس سے چند ایک شعر سنے پھر فرمایا: رحمك الله۔یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہو جاتا تھا۔چنانچہ وہ بھی میدان میں جاتے ہی شہید ہوگیا۔ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔حضرت عمر نے روکا کہ مسجد میں مت پڑھو۔وہ غصہ میں آگیا اور کہا تو کون ہے کہ مجھے روکتا ہے۔میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے سامنے شعر پڑھے تھے اور آپ نے منع نہ کیا حضرت عمر خاموش ہو گئے۔ایک شخص کا اعتراض پیش ہوا کہ مرزا صاحب شعر کہتے ہیں۔فرمایا۔آنحضت صلی اللہ علیہ سلم نے خو بھی شعر پڑھتے ہیں۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی شاعر تھے۔حضرت عائشہ نے امام حسن اور امام حسین نے کے قصائد مشہور ہیں۔حسان بن ثابت نے آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی وفات پر مرثیہ لکھا۔سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد سکھتے ہیں۔کسی صحابی کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا بہت شعر نہ کہا ہو۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ک منع نہ فرمایا۔قرآن شریف کی بہت سی آیات شعری سے ملتی ہیں۔ایک شخص نے عرض کیا۔کہ سورۃ شعراء میں اخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے۔فرمایا۔وہ مقام پڑھو۔وہاں خُدا نے فسق و فجور کرنے والے شاعروں کی مذمت کی ہے۔اور مومن شاعر کا وہاں خود استثناء کر دیا ہے۔پھر ساری نہ تور