درثمین فارسی کے محاسن — Page 318
PIA نام شاعر اشعار ۱۳ جامی نومید هم مباش که رندان باده نوشه ناگاه بیک خروش بمنزل رسیده اند نا امید بھی نہ ہو کیونکہ محبت الہی کی شراب پینے والے رندا چانک ایک ہی نعرہ سے منزل پر پہنچ گئے ہیں۔( البدر ۲۴ مئی ) ب المثل تا نباشد چیز کے مردم نگویند چیرتا۔ترجمہ: جب تک کچھ کچھ ہولوگ باتیں نہیں ہے۔المحکم در جولائی بشن) ۲۱۶ سعدی کہ لیے حکم شرع آب خوردن خطاست : اگر خون بفتوای بریزی رواست کیونکہ شریعت کی اجازت کے بغیرپانی پینا بھی گناہ ہے۔اگر شرع کے حکم سے تو قتل بھی " ۲۱۷ PIA ۲۱۹ ۲۲۱ " " " کمر سے تو جائز ہے۔(البدر هر ستمبر اشه) یکے نیک خلق و خلق پوش بود که در مصر یک چند خاموش بود ایک اچھے اخلاق کا مالک گودڑی پوش ، مصر میں کچھ عرصہ بالکل خاموش رہا۔جہانے برو بود از صدق جمع چو پروانه ها وقت شب گرد شمع اخلاص سے ایک دنیا اسکے گرد جمع تھی، جیسے رات کے وقت شمع کے گرد پروانے۔شبے در دل خویش اندیشه کرد : که پوشیده زیر زبان است مرد ایک رات اس نے اپنے دل میں سوچا کہ انسان کاکماں کی زبانی نیچے پوشیدہ ہے۔اگر ماند فطنت نہاں در سرم چه دانند مردم که دانشورم اگر میری عقل میتر سرین ہی چھپی رہی، تولوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ کسی بھی عقلمند ہوں۔سخن گفت و دشمن بدانست و دوست که در مصر نادان ترا نزد هموست تب اس نے باتیں شروع کر دیں اور دوست دشمن سرنے سمجھ لیا ، کم مصرمیں اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں۔