درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 316 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 316

نمبر شمار نام شاعر ۲۰۰ اشعار مولانا روم قطب شیر و صید کردن کار او باقیاں هستند باقی خوار او قطب شیر کی مانند ہے شکار کرنا اس کا کام ہے، باقی سب اس کا بچا کھا کھانے والے ہیں۔۲۰۱ سعدی مکن شادمانی بمرگ کیسے کہ دسرت پس از دے نماند بسے کسی کی موت پر خوشی ست مناؤ، کیونکہ اسکی بد تیری زندگی کا عرصہ بھی زیادہ باقی نہیں ہے گا۔۲۰۲ ۲۰۳ " (البید که ۴ در ما هر چه بیشه) محال است سعدی که راه صفا : توان رفت جز در پیئے مصطفے اسے سعدی یہ مکن نہیں کر صدق و صفا کا راستہ محمدمصطفے کی پیڑی کے بغیر اختیار کیا جاسکے۔برو ہر آن شاہ سوئے بہشت : حرام است بر غیر ہوئے بہشت اس بادشاہ دو جہاں کی محبت بہشت کی طرف سے جاتی ہے کسی دوسرے پر بہشت کی بو بھی حرام ہے۔۲۰۴ حافظ ۲۰۵ (حقیقة الوحی است) عاشق که شد که یار بحالش نظر نکرد با ای خواجه در و نیست دگر نه بی است ون عاشق بن کر جوتے ایسے حال پر توجہ کی ہو ا ر ر ر ہی نہیں در طی یے موجود ہے۔(حقیقة الوحی (1) نامعلوم درس ناشی مجری دو قران خواهد بود از پنے مهدی و دقبال نشان خواهد بود ۲۰۶ سعدی چودہویں ہجری میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا ، وہ مہدی اور دجال کے ظہور کا نشان ہو گا۔(حقیقة الوحی به) پسندید گانے بجائے رسند : زما کہتر انت چه آمد پسند پسندیدہ لوگ سی مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں ، آپ کو ہم جیسے حقیر بنوں کی کونسی چیز سینا گئی۔(حقیقة الوحی (۳۲ )