درثمین فارسی کے محاسن — Page 9
نے کئی سو برس تک اس کی لطافت میں فرق نہ آنے دیا۔تصوف کا اعجاز یہ تھا، کہ وہ الفاظ جو رندی اور عیاشی کے لئے خاص تھے وہ حقائق اور اسرار کے ترجمان بن شعر الحجم مقصد پنجم ) گئے یہ غرض " شاعری کے جس قدر اقسام ہیں یعنی فلسفیانہ، اخلاقی عشقیہ تخیلی سب سے مفید کام لئے جاسکتے ہیں۔فلسفیانہ شاعری دقیق خیالات کو آسانی کے ساتھ ذہن نشین کر سکتی ہے۔اخلاقی شاعری اخلاق کو سنبھالتی ہے عشقیہ شاعری سے زندہ دلی اور تازگی رُوح پیدا ہوتی ہے تخیل سے طبیعت کو اہتزاز اور انبساط ہوتا ہے۔لیکن افسوس کہ اکثر شعرائے ایران نے شاعری کا صحیح استعمال نہیں کیا۔بہ لحاظ غالب شاعری صرف دو کام کے لئے مخصوص ہوگئی۔سلاطین اور امراء کی مداحی جس میں کذب و افترا کا طومار باندھا جاتا تھا، اور تعشق و عاشقی جو دو را ز کار مبالغوں اور فضول گوئیوں سے معمور تھی متاخرین نے تخیل کو البتہ بہت وسعت دی لیکن اس میں اس قدر اعتدال سے تجاوز کر گئے کہ تخیلی نہیں رہی بلکہ معا بن گئی ہے شعر العجم حصہ چہارم ) قرآن کریم نے شاعری کے دونوں پہلو راچھے برے) بڑی وضاحت سے بیان کئے ہیں : - هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيطِيْنُ 6 تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ آفَاكِ امه تُلْقُونَ السَّمْعَ وَاكْثَرُهُمْ كَذِبُونَه وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ المْ تَرَ انَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَ اَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَالَا يَفْعَلُونَ ، إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُواد وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَيَّ مُنْقَلبٍ يَنْقَلِبُونَ : (الشعراء : ۲۲۲-۲۲۸)