درثمین فارسی کے محاسن — Page 303
۳۰۳ نمبر شمار نام شاعر (+1 ۱۰۲ i م ۱۰ ۱۰۵ اشعار عمر خیام گویند بهشر جستجو خواهد بود و آن یار عزیز تند خو خواهد بود کہتے ہیں قیامت کے دن تفتیش ہوگی اور اس دن وہ پیارا محبوب تند خو ہو گا۔" سعدی از خیر محض شر سے نیاید ہر گز + خوش باش که عاقبت نکو خواهد بود خالص بھلائی والی ہستی سے برا سلوک ہرگز ممکن نہیں مطمئن ہو کہ انجام بخیر ہوگا۔الحکم ۲۳ مئی انشاه) مکن تکیه بر عمر نا پائیدار : مباش ایمن از بازی روزگار بے ثبات زندگی پر بھروسہ نہ رکھو زمانہ کی چالوں سے بے فکرمت رہو۔که خبث نفس نگر دلبسالها معلوم ہے ترجمہ کیون کرد و یا نسلوں تک علم نہیں ہوا کرتا۔ضرب باش ہم خدا خواہی و ہم دنیائے ہوں این خیالی است محال است جنوں تو خدا کا طالب بھی بنتا ہے اور حقیر دنیا کا بھی ، یہ محض وہم ہے ، ناممکن ہے ، دیوانگی ہے۔دالحکم ۳۱ جولائی بن شاه) ۱۰ سعدی یکے پرسید زان گم گشته فرزند کر اسے روشن گہر پیر خردمند : کسی نے اس (یعقوب سے بی بی گم ہوگیا تھا پوچھا کہ اسے روشن ضمیر دانا بزرگ 1-4 I-A 1۔4 ز مصرش بوئے پیرا مین شمیدی : چرا در چاه کنعانش ندیدی تو نے ملک مصر سے تو کرتے کی بوسونگھ لی، لیکن میں کہا کہ کنویں میں سے کیوں نہ دیکھا۔بگفت احوال ما برق جهان است : دمے پیداد و دیگر دم نهان است - 1 غائب است کہا کہ ہمارا حال بجلی کی طرح ہے ، ایک ملحم کھائی دیتی ہےاور دوسر یہ اب ہو جاتی ہے۔گہے بر طارم اعلیٰ نشینم : گئے بر پشت پائے خود نه بینم کبھی تو میں ایک بلند مقام پر بیٹھا ہوتا ہوں اور کبھی اپنے پاؤں کی پشت پر بھی