درثمین فارسی کے محاسن — Page 8
ہیں لیکن اخلاقی تعلیم کے لئے ایک ایک شعر ضخیم کتاب سے زیادہ کام دے سکتا ہے۔شاعری ایک موثر چیز ہے۔اس لئے جو خیال اس کے ذریعہ سے ادا کیا جاتا ہے۔دل میں اتر جاتا ہے اور جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے۔اس بنا پر اگر شاعری کے ذریعہ سے اخلاقی مضامین بیان کئے جائیں۔اور شریفانہ جذبات مثلاً شجاعت، غیرت، حمیت ، آزادی کو اشعار کے ذریعہ سے ابھارا جائے، تو کوئی اور طریقہ برابری نہیں کر سکتا " شعر العجم محله چهارم منت پھر لکھتے ہیں: فارسی شاعری اس وقت تک قالب بے جان تھی۔جب تک اس میں تصوف کا عنصر شامل نہیں ہوا۔شاعری اصل میں اظہار جذبات کا نام ہے۔تصوف سے پہلے جذبات کا سرے سے وجود ہی نہ تھا۔قصیدہ مذاحی اور خوشامد کا نام تھا میشنوی واقعہ نگاری تھی۔غزل زبانی باتیں تھیں۔تصوف کا اصل مائرہ خمیر عشق حقیقی ہے جو سرتا پا جذبہ اور جوش ہے عشق حقیقی کی بدولت مجازی کی بھی قدر ہوئی۔اور اس آگ نے تمام سینہ و دل گرمادیئے۔اب زبان سے جو کچھ نکلتا تھا۔گرمی سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ارباب دل ایک طرف ، اہل ہوس کی باتوں میں بھی تاثیر آگئی " شهر الحجم حصہ پنجم ) لیکن شاعری میں جب عاشقانہ خیالات آتے ہیں۔تو بہت جلد ہوا و ہوس کی طرف منجر ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ تمام شاعری رندانہ اور عیاشانہ خیالات سے بھر جاتی ہے۔یہاں تک کہ بے حیائی اور فخش تک نوبت پہنچے جاتی ہے۔عاشقانہ شاعری چھٹی صدی میں شروع ہوئی۔چونکہ ایران کو رندی اور عیش پرستی سے خاص مناسبت ہے۔اس لئے احتمال تھا کہ بہت جلد اس کے خمیر میں عفونت آجائے۔لیکن تصوف