درثمین فارسی کے محاسن — Page 293
۲۹۳ نمبر شمار نام شاعر اشعار ۳۲ مولاناروم عشق اول سرکش و خونی بود و تا گریزد هر که بیرونی بود t } شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے ، تا و شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔سعدی " (سبز اشتہار صلا) در لیست دردم که گاز پیش آب چشم و بردارم آستین برود تا بدانم میرے دل میں ایسا درد ہے کہ اگر میں آنسوؤں کے آگے سے آستین ہٹانوں تو وہ میرے دامن تک چلے جائیں گے۔د فتح اسلام صا) چشم بد اندیش که برکنده باش و عیب نماید هنرش در نظر بدخواہ کی آنکھ کہ خُدا کرے پھوٹ جائے ، اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے۔توضیح مرام من ۳) ۳۵ نامعلوم چشم شهباز کار دانان شکار از بر کشادن است گرد وخته اند تجربہ کار شکاریوں کے باز کی آنکھ ہے تو کھلنے کے لئے ہی ،اگرچہ اس وقت انہوں نے سی رکھی ہے۔توضیح مرام صه) ۵ ۳۶ مولانا روم چون بدندان تو کرمے اوفتاد : آن نه دندانی لیکن اسے اوستاد جب تیرے دانتوں میں کیڑا لگ جائے تو وہ تیرے دانت نہیں رہے۔حضرت انہیں ۳۷ سعدی اکھاڑ پھینکئے۔ر نسیم دعوت مثث ) چون نبود خویش را دیانت متقوای : قطع رحم به انه مودت قربی جب اپنوں میں دیانت اور پرہیز گاری نہ رہے، تو محبت اور یگانگت کی بجائے تعلقات توڑ لینا بہتر ہے۔ر تبلیغ رسالت جلد دوم صلا)