درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 289 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 289

YAQ نمبر شمار نام شاعر A " حافظ سعدی و جامی استعار گویند سنگ لعل شود در مقام صبر : اسے شود ولیک بخون جگر شور کہتے ہیں صبر کر نے (یعنی باہر گرنے سے پتھر لعل بن جاتا ہے ، ہاں بن جاتا ہے لیکن خون جگر پی کر۔گرچه وصالش نه بگوش دهند : ہر قدرے دل که بتوانی بکوش اگر چہ اس کا وصال کوشش سے حاصل نہیں ہو سکتا، پھر بھی اسے دل جہاں تک تجھ سے ہو سکے کوشش کرے۔دالحکم اکتوبر شاه) من آنچه شرط ابلاغ ات با تو میگویم : تو خواه از سخنم بند گرو خواه ملال یکی تو صرف پیغام پہنچانے کی غرض سے تجھ سے بات کرتا ہوں ، تو خواہ میری بات سے نصیحت پکڑے خواہ ناراض ہو جائے۔(مکتوبات احمدیہ جلد دوم مل) اگر ہر موٹے من گردو زبان : از ورانم بهر یک داستانی اگر میرا ہر بال زبان بن جائے، تو یں ہر زبان سے تیری محبت کی داستان بیان کرتا ہونگا۔(مکتوبات احمد حصہ اول ) سعدی من ایستاده ام ایجا بند دست مشغول : مرا ازین چه که خدمت قبول یا نه قبول میں تویہاں آپکی خدمت میں مشغول کھڑا ہوں ، مجھے اسے کیا غرض کہ خدمت قبول ہویا ن قبول ہو۔گر نباشد بدوست ره برون : شرط عشق است در طلب مردن اگر چہ محبوب تک سائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے۔(مکتوبات احمدیہ مصر اول مت) ترسم کہ کعبہ چوں رہی اے اعرابی : کیس رہ کر تو میروی بترکستان است اے عرب کے بندو! مجھے خدشہ ہے کہ توکس طرح کعبہ تک پہنچے گا، کیونکہ جس راستہ پر