درثمین فارسی کے محاسن — Page 270
اس شعر سے برابر کے لفظ کے معنوں کی بھی پوری وضاحت ہو جاتی ہے کہ یہ لفظ قضایعنی پیچھے کا الٹ ہے۔اس کی جگہ مقابلہ کا لفظ رکھ کر دیکھئے کتنا بعدا معلوم ہوتا ہے۔۱۳ - حافظ شیرازی کی ایک غزل میں آیا ہے : خیال زلف تو چنین کار خالی است که زیر سار رفتن طریق با ریاست حضرت اقدس نے اسی مفہوم کو یوں ادا فرمایا : ست پناہ ہوئے توجستن نه طور مستان است نه که آمدن به پناہت کمال میاری است 140۔در ثمین (۱۱۵) خیال روئے تو بستن “ سے مراد پناہ ڈھونڈنا ہی ہے ، جسے حضرت اقدس نے کھول دیا۔حافظ تقابل کے لئے خاماں اور عیاری کے الفاظ لائے ہیں۔عیاری کا لفظ عشق مجازی کے لئے تو موزوں ہے جو دوسرے شاعروں کی طرح حافظ کا بھی موضوع ہے۔لیکن حضرت اقدس کا موضوع ہمیشہ عشق حقیقی ہے جس کے لئے عیاری کا لفظ قطعا ناموزوں ہے۔پھر خاماں اور عیاری کے الفاظ میں پورا اتضا د بھی نہیں اور مستاں اور ہوشیاری کے الفاظ میں مکمل تضاد ہے (صنعت طباق) ۱۔مولانا روم کی ایک غزل کا شعر ہے : سے جملہ بے قراریت ازطلب قرار تست : طالب بے قرارشو تا که قرار آید یتے بظاہر مضمون نہایت شاندار ہے، اور الفاظ بھی بہت عمدہ دکھائی دیتے ہیں مگر غور سے دیکھا جائے لے ترجمہ : تیری زلفوں پر دستیان جانا کچے لوگوں کا کام نہیں، کیونکہ ان زنجیروں کے نیچے آجانا حد درجہ کی چالا کی ہے۔کے ترجمہ: تیرے چہرہ کی پناہ ڈھونڈنا مستوں بیہوشوں کاکام نہیں کیونکر تیری پنا میں آتا تو مال درجہ کی پیشیاری ہے۔کے ترجمہ: تیری تمام بیقراری تیرے قرار ڈھونڈنے کی وجہ سے ہے ، تو طالب بیقرار بن تا تجھے قرار آئے۔