درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 263 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 263

کے لفظ سے قرآن کریم کے حسن کو نمایاں کیا اور حس بھی ایسا جو حقیقت پر مبنی ہے۔کیا قرآن کریم نے بے شمار انسانوں تنہا) کو گمراہی کے گڑھے سے نہیں نکالا ؟ تنہا اور تنہا کے الفاظ میں تجنیس مرکب مشاہربھی پیدا ہوگئی ہے۔اسی طرح حضرت اقدس ایک اور مقام پر بھی اس تیلیج کو اپنے کام میں لائے۔فرمایا اسے صد ہزاراں ویسے بینم درین چاه تن والی سیخ ناصری شد از دوم او بیشمار تے در تمین طلا) اختصار دیکھئے حضرت اقدس نے اس تلمیح کو وشیخ کے پورے شعر پر پھیلی ہوئی تھی ، صرف ایک ہی مصراع میں سمو دیا۔اور دوسرے مصرع میں ایک اور تلمیح لا کر ایک اور معجزانہ حقیقت کو بڑے خوبصورت الفاظ میں بیان فرمایا۔۔مثنوی مولانا روم میں ہے : - اے دریغ آن دیدہ کور و کبود : کافتا ہے اندر وزره نموده حضرت اقدس نے سادہ حسرت کو استفہام تعجب میں بدل کر شعر کی بلاغت میں نمایاں ایزادی کردی اور فرمایا : سے این چه چشمے ست کو رو سخت کبود : کافتا بے در وجوذره نمود؟ حسب ذیل اشعار شیخ سعدی کے ایک مشہور قصیدہ کے ہیں : د در ثمین ) لے ترجمہ اس معنی آنحضرت کے چاہ ذوق میں لکھوں یوسف مجھے نظر ہے ہیں اور کام کی برکت بیشماری نام پیدا ہوچکے ہیں۔کے ترجمہ: افسوس ہے اس اندھی اور تاریک آنکھ پر جس میں سورج بھی ایک ذرہ کی طرح دکھائی دیا۔کے ترجمہ : وہ آنکھ کیسی اندھی اور تاریک ہے ، جس میں سورج بھی ایک ذرہ کی طرح دکھائی دیا۔