درثمین فارسی کے محاسن — Page 245
۳۴۵ چون بنده شناخت برای عز و جلال : بعد از تو جلال دیگران را چه کنند؟ دیوانه کنی هر دو جهانش بخشی : دیوانہ تو ہر دو جہاں را پر کند؟ دور زمین (۲۳۳) پھر اسی شعر کے مضمون کو اپنے الفاظ میں یوں بیان فرمایا سے عاشقان روشن خود را بردو عالم میدہی ہر دو عالم پیچ پیش دیده غلمان تو ور مین ) ظاہر ہے کہ یہ شعر خواجہ موصوف کے شعر سے بہت فائق ہے۔عاشقان روئے خود اور ہردو عالم ہیے نے اسے چار چاند لگا دئے ہیں۔اور دیدہ علمان تو“ کے الفاظ اسے اور بھی اُونچا لے گئے۔سبحان اللہ ! یوسف زلیخا جامی کا ایک مشہور شعر ہے۔ترا با هر که رو در آشنائیست : قرار کارت آخر بر جدائیسته اس پر حضرت اقدس نے قدر سے تصرف کے بعد یوں تضمین فرمائی : سے ترا با ہر کہ روئے آشنائی است و قرار کارت آخر بر جدائی است ز فرقت بر دلے بارے نباشد که با میرنده اش کارسے نباشد ے ترجمہ : جس نے تیری شان و شوکت کو پیچان یا پھر تھے چھوڑ کر وہ دوسروں کی شان و شوکت کی کیا پروا کر تا ہے ؟ اپنا دیوانہ بنا کر تو اسے دونوں جہان بخش دیتا ہے، مگر تیرا دیوا نہ دونوں جہانوں کو کیا کرے۔کے ترجمہ : اپنے مکھڑے کے عاشقوں کو تو دونوں جہان دیتا ہے لیکن تیرے غلاموں کی کھوئی آگئےدونوں جہاں بچے ہیں۔کے ترجمہ : خواہ کسی سے بھی تیری آشنائی ہو ، اس کا انجام آخر جدائی ہی ہوگا۔سے ترجمہ : اس شخص کے دل کو مرنے والے کی جدائی سے کوئی مند نہیں پہنچتا ، جسے اس مرنے والے سے کوئی تعلق نہ ہو۔