درثمین فارسی کے محاسن — Page 244
م ہو جاتا ہے۔مثلاً آپ نے شیخ سعدی کے مذکورہ بالا شعر کے مفہوم کو یوں اپنایا : یا نبی اللہ نشارِ روئے محبوب توام : وقف راست کرده این سرکه بروش است بار در ثمین خدا هم درین معنی است گر تو بشنوی : یادگار مولوی در مثنوی گندم از گندم بروید جو ز جو : از مکافات عمل غافل مشوه دورتمین ۱۳۹۲ آخری شعر مولانا روم کا ہے۔اور اس سے پہلے شعر میں اس طرف اشارہ موجود ہے۔۵ - خواجہ عبداللہ انصاری کی ایک رباعی ہے ! آن کسی که ترا شناخت جان را چه کند؟ + فرزند و عیال و خانمان را چه کند؟ دیوانه کنی هر دو جهانش بخشی و دیوانه تو هر دو جهان را چه کت و اسے حضرت اقدس نے اپنی ایک تقریر میں نقل کیا ہے (الحکم ار مارچ سنہ) ایک جگہ اس کے دوسرے شعر پر تضمین کی ہے۔فرمایا : ، آن کس که بتو رسد شان را چه کند؟ : باشتر تو فیتر خسروادی را چه کت دهد؟ اور سے ترجمہ اے نبی اللہ یں تیرے پیاسے کھڑے پر نثار ہوں، اوراس سر و جو کندھوں پر ہے میں نے تیار میں فن کردیاہے۔کے ترجمہ: اگر تو سنے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے، جو مثنوی میں مولانا رومی کی یاد گا ر ہے ، یعنی گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتا ہے اور جو سے جو ، پس تو اپنے عمل کے بدلہ سے غافل نہ ہو۔سے ترجمہ جس شخص نے تجھے پہچان لیا وہ جان کو کیا کرے گا، اولاد ، عیال او رگھر بار کو کیا کر ے گا۔تو اپنا دیوانہ بنا کر دونوں جہان بخش دیتا ہے، لیکن تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے۔سے ترجمہ : ب شخص تجھ تک پہنچ جائے وہ بادشاہوں کو کیا بجھتا ہے، تیری شان کے مقابر می بادشاہوں کی شان کی کیا وقعت ہے۔