درثمین فارسی کے محاسن — Page 243
۲۴۳ آخری دونوں شعر مولانا روم کے ہیں اور ان سے پہلے شعرمیں اس امر کا ذکر موجود ہے۔جان شود اندر ره پاکش فدا :: مژدہ ہمیں است گر آید بگوش سرکہ نہ دریائے عزیزیش رود : بارگرانی است کشیدن بدوش له ور ثمین طن) دوسرا شعر شیخ سعدی کا ہے لیکن وہاں عزیزش کی بجائے عزیزاں ہے۔حضرت اقدس نے عزیزیش کا لفظ لا کر اس کا رخ رسول مقبول صلی اللہ علیہ سلم کی طرف پھیر دیا، جس سے شعر کا مرتبہ بہت بلند ہو گیا۔ایسا تصرف معیوب نہیں بلکہ بہت ستحسن ہے۔جیسا کہ آگے زیر عنوان " اخذ" واضح کیا جائے گا۔حضرت اقدس کو جہاں کہیں کوئی عمدہ بات نظر آتی ہے، تو شدید محبت کی وجہ سے یا تو اسے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر لیتے ہیں ، یا ذات باری تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ سے عاشق زار در همه گفتار و سخن خود کشد بجانب یار تشحید الا زمان جنوری ناشر) اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ حضرت اقدس کو اگر کسی بزرگ کا کوئی تخیل پسند آ گیا تو اسے پہلے تو قریب قریب اسی کے الفاظ میں نقل کر کے اس بزرگ کے کلام کی داد دیتے ہیں۔اور پھر بعض دفعہ اسی مضمون کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ شعر کا حسن دوبالا لے ترجمہ اس کی پاک راہ میں ہماری جان فدا ہو ، مبارک بات یہی ہے اگر سنتے میں آجائے کہ وہ سرتو اس کے مبارک قدموں میں کٹ کر نہ گھر سے ، اسے کندھوں پر اٹھائے پھر نا نا قابل برداشت بوجھ ہے۔کے ترجمہ : عاشق زار ہر بات میں کلام کا رخ اپنے محبوب کی طرف پھیر لیتا ہے۔