درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 235 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 235

۲۳۵ پافشرده در وفائے دلبر ے : و از سرش بر خاک افتاده سری ور ثمین ۱۳ ) دور ثمین ) کورٹی خود ترک کن را ہے یہ ہیں : اے گدا برخیزد آن شا ہے یہ ہیں میوه از روضه فت خوردند و از خود و آرزوئے خود مردند به متر آن چرا بر سر کیں دوی ؟ ندیدی زرمتراں مگر نیسکوئی (در ثمین منت ) در همین حث) ترجمہ : وہ دلبر کی وفاداری میں ثابت قدم رہے ، اور اس کے عشق میں ان کا سر خاک میں پڑا ہے۔ر پا فشردن کے معنوں کے لئے نظامی گنجوی کا یہ شعر دیکھئے : سکندر در آن داوریگاه سخت : په افشرد مانند بیخ درخت یعنی اس سخت میدان جنگ میں سکندر نے درخت کی جڑوں کی طرح اپنے پیر جمائے رکھے۔اسی طرح محمود غزنوی کہتا ہے : سے ہزار قلعه کشادم بیک اشارات دست سے مصاف شکستم بیک فشردن پا یعنی میں نے ہزاروں قلعے ہاتھ کے ایک اشارے سے فتح کر لئے اور کئی جنگوں میں صرف پیر جانے سے دشمنوں کو شکست دی۔اپنی نابینائی کو چھوڑا اور اس چاند کو دیکھ ، اسے فقیر اٹھ اور اس بادشاہ پر نظر ڈال۔انہوں نے باغ فنا کا پھل کھایا اور اپنی نفسانیت اور خواہشات سے مرگئے۔تو قرآن پر دشمنی سے کیوں حمد کرتا ہے، تو نے شاید قرآن کی کوئی خوبی نہیں دیکھتی۔(فارسی زبان میں نیکوٹی کے معنی خوبصورتی ہیں)۔