درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 215 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 215

۲۱۵ کہتے ہیں۔پس سلاست کلام کے اس عنوان کے تحت حضرت اقدس کے کلام میں سے حسب ذیل امور کے متعلق بعض نمونے پیش کئے جائیں گے :- -۱- روانی -۲- مظاہر قدرت - نفسیات ۴- جدت ه - سہل ممتنع۔(۶) حسن کلام کے دیگر متفرق نمونے۔اس تقسیم سے یہ نہ سمجھا جائے کہ جو اشعار کسی ایک امر کے متعلق پیش کئے جائیں ان میں دوسری خوبیوں کا فقدان ہوگا۔مثلاً مظاہر قدرت کے بیان کے متعلق آگے جو اشعار درج کئے گئے ہیں ، ان میں روانی بھی ضرور ہوگی۔کیونکہ یہ ایسی خوبی ہے جس کا ہر شعرمیں کم وبیش پایا جاناضروری ہے۔ورنہ کوئی شعر شعر کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہو سکتا۔نیز ان میں جدت بھی ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی نفسیات کا بیان بھی۔اسی لئے کہ جدت کے تحت جو شعر درج ہیں ، ان میں مظاہر قدرت یا نفسیات کا بیان بھی ہو سکتا ہے اور سہل ممتنع والے اشعار میں تو لازما متعدد خوبیوں کا اجماع ہوگا۔روانی : سے یہ مراد ہے کہ الفاظ آسانی سے زبان سے نکلیں۔کلمات متوافق ہوں ، ان میں کسی قسم کا تنافر نہ پایا جائے۔معانی اور الفاظ ایسے مربوط چلے جائیں کہ کہیں کوئی اوپنچ پہنچ نہ ہو۔گویا ایک گہرا دریا ہے ، جو بڑے سکون مگر تیزی سے بہتا چلا جاتا ہے۔اور اس کی سطح بالکل ہموار رہتی ہے۔روانی بھی کلام میں حسن اور دلاویزی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔اس کے بغیر کوئی منظوم کلام ترنم سے نہیں پڑھا جا سکتا۔نہ سازوں سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے ، کلام میں وزن پیدا کرنے کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ ترنم پر پورا اترے۔نظم کے لئے بے شمار اوزان ہو سکتے ہیں، مگر صرف وہی اوزان اپنائے گئے ہیں جو ترنم کے لئے زیادہ مناسب ہیں۔یوں تو حضرت اقدس کے تمام کلام میں یہ خوبی موجود ہے لیکن بعض نظموں میں یہ خوبی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔مثلا وہ نظمیں دیکھئے جن کے مطالعے یہ ہیں :-