درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 214 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 214

کیا جائے۔بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ مفید اور کار آمد مطالب اور حقائق کو سامع کے ذہن نشین کیا جائے۔چونکہ خوبصورت کلام سامعین کی توجہ اپنی طرف پھیر لیتا ہے اور فنون بلاغت ایک حد تک کلام کو پرکشش اور مختصر بنانے میں محمد ہوتے ہیں۔لہذا اسی حد تک کلام میں ان کا استعمال جائز اور روا ہے۔ورنہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے بغیر کلام حسین اور پر اثر بن ہی نہیں سکتا۔ضرور بن سکتا ہے بلکہ جو کلام فتی الجھنوں سے مبرا ہو وہ زیادہ زود فہم ہوتا ہے اور یہی خوبی سلاست کلام کا سب • سے بڑا عنصر ہے۔خاکسار نے سلامت کلام کے ذکر کو دوسرے فنون بلاغت یعنی علم بیان اور علم بدیع کے بعد اس لئے رکھا ہے کہ تا قاری کو ان فنون کے متعلق کچھ واقفیت ہو جائے ، کیونکہ سیلیس کلام میں بھی یہ فنون ایک حد تک مستعمل ہوتے ہیں۔اگر چہ وہ الفاظ کی سادگی اور حسین معانی کے تلے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔حسن کلام کی اصل بنیا د معانی کے مطابق مؤثر الفاظ کا انتخاب ہے۔اور ان کی ایسی موزوں ترتیب ہے جسے کلام میں اعلی درجہ کی روانی پیدا ہو جائے کیونکہ روانی بھی شعر کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی ہے۔اسی طرح ہر بلند پایہ شاعر کے لئے مظاہر قدرت کا گہرا مطالعہ بھی ضروری ہے۔اور ایک صلح کے لئے نفسیات سے واقفیت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے ، کیونکہ یہ دونو امور خوبصورت اور مؤثر الفاظ کے انتخاب میں بڑے محمد ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ قادر الکلامی کا اظہار جدت سے بھی ہوتا ہے۔یعنی کلام میں ایسے تخیلات کا آنا ہو دوسرے شعرا کے کلام میں نہ پائے جاتے ہوں۔پھر بعض دفعہ قادرالکلام اساتذہ کے دل و دماغ میں شدید جذبات اور احساسات کی ایک ایسی عظیم ہر اچانک پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کے نوک قلم سے بڑے اچھوتے ، دلگداز اور موثر شہ پارے نکلتے ہیں، جن کا مقابلہ کوئی اور کام نہیں کر سکتا۔اسے سہل ممتنع