درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 179 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 179

149 یہاں کو اکب اور عناصر اربعہ دونوں شامل ہیں۔زمین سے خاک بھی مراد ہے اور فلک سے ہوا۔نیز دیکھئے عزیز کا لفظ معانی کو کیسے وسعت دے رہا ہے۔یعنی وہ محبوب زیر دست بھی ہے اور پیارا بھی۔یہ شعر صنعت جمع کی بھی خوبصورت مثال ہے۔تدریج : یہ صنعت بھی صنعت طباق میں ہی شامل ہے۔طریق یہ ہے کہ تعریف یا ہجو کے در میان زنگوں کا ذکر کریں اور ان سے بطریق کنایہ یا ابہام مقصود العینی تضاذ) حاصل کریں۔تکثر الوان شرط نہیں۔ما فوق الواحد کافی ہے جیسے سے آفتاب هر زمین و هر زمان : رہبر ہر اسود و ہر احمرے d در ثمین صدا ) منت او بر همه شرخ و سیا ہے ثابت است : آنکه بهر نوع انسان کرد جان خود نشاره در ثمین ) دونوں شعروں میں کنایہ کے ذریعہ تقاد حاصل کیا گیا ہے کیونکہ کنایہ کی ایک شق یہ بھی ہوتی ہے کہ صفت کا ذکر کر کے موصوف کی ذات مراد لیں۔اس طرح صفتی معنی بھی اور ذات بھی دونوں متعلقہ لفظ سے لئے جا سکتے ہیں۔۔مقابلہ : دو یا زیادہ معنوں کو جو متوافق ہوں ذکر کریں۔پھر چند دوسرے معنوں کو جو ان کی ضد ہوں بہ ترتیب ذکر کریں جیسے : سے عاشق صدق و سداد و راستی : دشمن کذب و فساد و هر شرکت ردور مین ما اے ترجمہ : وہ ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے آفتاب ہے ، اور ہر کالے گورے کا رہبر ہے۔سے ترجمہ : تمام گوری اور کالی قوموں پر اس کا احسان ثابت ہے جس نے نوع انسان کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔کے ترجمہ : وہ صدق، سچائی اور راستی کا عاشق ہے ،مگر کذب، فساد اور شرکا دشمن۔