درثمین فارسی کے محاسن — Page 174
سلام 16 ب - علم بدیع صنائع بدائع معنوی و لفظی کے حسن و قبح کے متعلق بحث ص۵۲ ہذا پر ملاحظہ فرمائیے۔یہاں صرف حضرت اقدس کے کلام سے ان کی مثالیں پیش کی جائیں گی۔یہ خیال رہے کہ حضرت اقدس کے کلام میں یہ صنعتیں اور دنہیں بلکہ آمد میں جو و تلتفت آپ کے ذہن رسا سے صفحۂ قرطاس پر جلوہ افروز ہوئیں۔مثلاً از یقین ست زہد و عرفان هم : گفتم آشکار و پنهان بشم در شین ۳۶۲) ظاہر ہے کہ آشکار و پنہاں کے الفاظ کلام میں کسی صنعت کے پیدا کرنے کے لئے نہیں لائے گئے بلکہ ایک حقیقت بیان کی گئی ہے۔ان الفاظ کے بغیر مطلوبہ مفہوم ادا نہیں ہو سکتا تھا۔اب ان الفاظ سے صنعت طباق پیدا ہوگئی تو یہ آمد ہے ، اور د نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام میں یہ صنعتیں اس طرح گھلی علی ہوئی ہیں کہ کئی جگہ یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ یہاں کوئی صنعت یا صنعتیں چھی بیٹی ہیں۔اور یہی انشا پردازی کا کمال ہے۔کہ صنعتیں خود بخود پیدا ہوں۔ورنہ اگر عمداً صنعتیں لانے کی کوشش کی جائے تو تصنع اور بناوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور کلام پایۂ اعتبار سے گر جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بعض صنائع کی تعریف میں اس فن کی کتب میں اختلاف ہے۔خاکسار نے وہی تعریف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے جس پر زیادہ تر مصنفین کا اتفاق ہے۔علاوہ ازیں حضرت اقدس کے کلام میں بعض ایسی صنعتیں بھی ہیں جن کا ذکرہ اس فن کی مروجہ کتب میں نہیں ملتا۔انکا ذکر مرد جو صنعتوں کی مثالیں پیش کرنے کے بعد کیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالٰی۔ترجمہ زبیدار عرفان بھی یقین کی بات ہی حال تو ہے ہی نے یہ بات میں پوشید و پڑھی جاتی ہے والی طور پرھی۔