درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 173 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 173

آن خرد مند دیکه او دیوانه را بهش بود : ہوشیا سے آنکر مست روئے ای یار سیلی در زمین ها) اس شعر میں غافلوں کا بظا ہر ذکرہ نہیں۔لیکن اس تصریح کے بغیر بھی صاف ظاہر ہے۔کہ اس شعر سے مراد یہی ہے۔کہ جن غافلوں کا ذکر آرہا ہے۔وہ نہ تو خرد مند ہیں اور نہ ہی ہوشیاں کیونکہ نہ وہ راہ مجبور ہے دیوانے ہیں اور نہ روئے محبوب کے گرویدہ۔اس قسم کے کنایہ کو تعریض کہتے ہیں۔کیونکہ عرصہ کے معنی طرف اور جانب کے ہیں۔گویا اشارہ ایک جانب کرتے ہیں۔اور مراد دوسری جانب ہوتی ہے۔بنتاج و تخت زمین آرزو نے دارم نه شوق افسر شاہی بدل مرا باشد ده ا ا ور ثمین ط۲ ) تاج و تخت سے حکومت مراد ہے اور خود تاج و تخت بھی۔اسی طرح سے هر که رخت افگند به ویرانه می نماید بترنز دیوانلله در تمین مثلا) رخت انگلندن کے معنی قیام کرنا ہے۔اور رخت افگندن بھی۔کے ترجمہ : وہ آدمی عقلمند ہے جو اسی راہ کا دیوانہ ہے، اور وہی ہشیار ہے جو اس حسین محبوب کے چہرہ کا گرویدہ ہے۔کے ترجمہ : مجھے کسی زمینی تاج و تخت کی خواہش نہیں۔اور نہ میرے دل میں کسی بادشا ہی تاج کا شوق ہے۔کے ترجمہ : جو شخص ویرانوںمیں اپنا ٹھکانا بنا تا ہے۔وہ پاگلوں سے بھی بدتر دکھائی دیتا ہے۔