درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 172 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 172

دست سے امداد مراد ہے جو ہاتھ سے کی جاتی ہے۔(الہ) سے حسن را با عاشقان باشد سرے بے نظر ور کے بود خوش منظر ہے حسن سے حسین مراد ہیں۔(منظروف برائے ظرف)۔د در ثمین صاد) کنایہ : یعنی ترک تصریح۔اصطلاحاً ایسا لفظ مراد ہے جس کے لازم معنی کا ارادہ کریں۔اور ساتھ ہی عزوم کا ارادہ بھی جائز ہو بخلاف مجاز جس میں ملزم کا ارادہ نہ کر نامعتبر ہے۔کنایہ کی بھی کئی قسمیں ہیں۔یہاں ان کی تشریح کی ضرورت نہیں۔مثالیں دیکھئے : پا به زنجیر پیش دلدار به ز هجران و سیر گراست در تمین ) سیر پا بہ زنجیر ہونے کو قید لازم ہے ، اور قید ہی مراد ہے۔اور ساتھ ہی سچ مچ پا بہ زنجیر ہونے کا مفہوم بھی جائز ہے سے عجب دارد اثر دست که دست عاشقش باشد : بگرداند جہانے را نہ بہر کارگر یا نے " ور ثمین ) یہاں دست سے دست دعا مراد ہے۔جو دُعا کے لئے اٹھایا جاتا ہے۔اور اگر یہاں دنیا کا لفظ محذوف سمجھا جائے۔تو مین دست (یعنی ہاتھ ) کا مفہوم بھی روا ہوگا۔ایک نظم میں متعدد اقسام کے غافلوں کا ذکر آرہا ہے۔اسی دوران میں فرمایا : سے ے ترجمہ :۔حسینوں کو بھی عاشقوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔کوئی خوش شکل کسی قدر دان کے بغیر نہیں ہوتا۔سے ترجمہ :۔پاؤں میں زنجیر ٹری ہونے کی حالت میں بھی مجبو کے سامنے ہونا۔اسکی جدائی میں باغ کی سیر سے بہتر ہے۔کے ترجمہ : اس ہاتھ میں معجب تاثیر ہوتی ہے جو کسی عاشق کا ہاتھ ہو۔خدا کسی رونے والے کا کام بنانے کے لئے ایک دنیا کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔