درثمین فارسی کے محاسن — Page 166
199 آفتاب هر زمین و هر زمان : رہبر ہر اسود و ہر احمر ے مجمع البحرین علم و معرفت : جامع الاسمین ابر و خاوے سے در ثمین صف) حسب ذیل شعرمی در تیم مستعار منہ ہے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مستعارہ ہے گر پر چینی نیکون این چریتا بسیار آورد و کم برام است و این صفاری تقسیم ہے (در تمین ۲۹ ) اسی طرح حسب ذیل اشعار میں خط کشیدہ الفاظ مستعار منہ ہیں :۔اختران آسمان زیب و هنر : رفته از چشم خلائق دُور ترکی دور ثمین ) ے افران فالکن ای سرائے نام : دنیائے دور نماند و نماند کسی دانم بداریم دور ثمین ص ۲) فرعون شد و عناد کلیے بدل نشاند به یکسر خزان شد و گله با از بهار کردی دور ثمین مشا) نے ترجمہ : ہر ملک اور سہر زمانے کا سورج اور کالے گورے سب کا ہادی۔سے ترجمہ : علم اور معرفت کا مجمع البحرین اور بادل اور آفتاب دونوں ناموں کا جامع۔سے ترجمہ : اگرچہ آسمان نیکوں کی جماعت بکثرت پیدا کرتا ہے اگر ایسا شفاف او قیمتی موتی مائی بہت کم جنا کرتی ہیں۔سے ترجمہ : حسن اور دید یہ کے آسمان کے ستاسے ہیں ، اور لوگوں کی آنکھوں سے دور چلے گئے ہیں۔ش ترجمہ : اے خالویہ سرائے فانی کسی سے وفا نہیں کرتی یہ ذلیل دنیا نہ کسی کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے اور نہ رہے گی۔کے ترجمہ : اس فرعون بن کرکلیم الہ کی عداوت دل میں بھائی وہ کیسر خزاں بن گیا اور لگا موسم بہار کا گلہ کر نے۔