درثمین فارسی کے محاسن — Page xix
کمرے نے در یک خلافت میں بر آوردہ میں تشریف لے گئیں۔حضور علیہ السلام ایک پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔پاؤں مبارک فریق کر سکے ہوئے تھے۔اور اخبار مطالعہ فرما رہے تھے۔ہم تینوں نے ٹھیکید پیر دایکه چاندی کا دور ایک ایک روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور خاک امر کی والدہ سے کچھ باتیں فرماتے رہے۔لیکن خاکار کو ان باتوں میں سے کچھ بھی هوای صبح بھی بھیجے کا وقت تھا۔سورہ ابھی نکھر ہے یاد نہیں۔اور نہ یہ یاد ہے کہ وہاں سے کب اور کیسے واپس ہوئے۔دوسری مرتبہ پر خان او کو یہ یاد نہیں۔کہ کسی طرح اور کدھر سے مذکورہ میں دوائل ہوئے۔صرف اتنا یاد ہے کہ یہ آمدہ کے دالان والے کونے سے ایک دو سیڑھیاں خیره کر ایک اور برآمدہ میں داخل ہوئے۔جس بائیں طرف ایک کوٹھڑی میں حضور علیہ السلام تشریف فرما تھی۔میں کومنٹری کا دروازہ بر آمرہ میں رہتا۔اور دائیں طرفہ کی دیوار میں ایک کھڑکی تھی نہ کرنے میں صرف اکلیل کو ٹلوں کی انگیٹھی تھی۔اور ایک چارپائی جیس پینا سے مر در و وترسم کھڑکی پر کوئی کپڑا بچھا ہوا نہیں تھا۔حضور جود در نور کا پانی پانی پر سمانے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے۔اور کے انتقال کی اس کاروائی جو دروازو کی کرتا ہے۔رخ مبارک پا سیتی کی طرف تھا۔اللہ حضور نے اچھے اور جو کہ تیری ہوئی جس کا رنگ تھی۔لیکن اب انگار یا د ہیں۔اسے اونٹ کے بالوں کی طرح تھا۔اور کنارہ سبڑا تھا۔اپنے اور بیٹی ہوئی تھی۔پاؤں مبارک کرنے میں دین کا اہم مینوں ہی تھے اور اسی میں چھلے ہوئے تھے۔حضور خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ہم جوں نے چاندی کا ایک ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔خاک کی والدہ سے حضور نے کچھ باتیں کیں۔لیکتی خاک رکو ان باتوں میں سے کچھ یاد نہیں کہ یہ یاد ہے۔کہ ہم جہاں سے کب اور کسی طرح واپس آئے۔جو خاکسار کو گویا وہیں البتہ حضور کی شبیہ مبارک دماغ میں نقش ہے۔دور و اضات والد مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ مسجد اقصی میں کچھ احباب جمع تھے۔اور یہ ما جود یہ عاجز لوگوں اور ٹونٹیوں سے کھیل رہا تھا کہ جوہی حضرت مفتی حمد صادق موجب رام درام ان کا انتظار علامہ ابھی دور میں چھڑکا ہے رونا شروع کر دیا اور واطر صاحب کے ہر چند کو شش کرنے پر چپ نہ ہوتا تھا کہ آخر اس شرط پر چپ و را که جب حضوره تشریف در آینه ی تو پر رونا مشروم کر دونگا۔انہوں نے مسجھا کہ اسے کہاں رنگا ، لیکن جب حضور تشریفہ کرے تو کیا ہے پھر رونا شروع کر دیا۔اس پر حضور علیہ السلام نے نے بچوں کے شرم سلوک کرنے کے متعدی کچھ عرصہ تقریر فرمائی۔نا دوسری اور قصہ جو والد مرحوم میان فرمایا کرتے تھے۔یہی ہے۔کہ والد مرحوم حضرت کالا بیوہ اور حضرت اگر می