درثمین فارسی کے محاسن — Page 148
۱۳۸ ط - نیک لوگوں پر اعتراض کرنا نا اہلی اور بے عقلی کا نتیجہ ہوتا ہے سے تو خودی زن رائے تو بچوں زنای ناقص ابن ناقص این ناقصاں خوب گریزد تو زشت است و تباه : پس چه خواهم نام تو اسے روسیاه کوریت صد پرده ها بر تو فگند نہ میں تعصب ہائے تو بیت بکند اسے بسا محبوب ای رب جلیل به پیشت از کوری تغییر است و ذلیل اسے بس کس خوردہ صد جام فت : پیش این چشمت پر از حرص و ہوا گر نماندے ازر وجود تو نشاں : نیک بودے میں حیات چون گلی زاغ گرزادے بجایت مادرت نیک بود از فطرت بد گوهرت ز آنکه کذب فسق و گفت در سر است و این نجاست خواریت زنان بدتر است تو ہلا کی اسے شقی سرمدی : زانکه از جان جہاں سرکش شدنی در ثمین ۱۳) کے ترجمہ : تو خود عورت ہے تیری رائے بھی عورتوں جیسی ہے، تو ناقص ہے ناقص کا بیٹا اور نا قصوں کی اولاد ہے ، اگر ایک حسین تیرے نزدیک بارکل اور خراب حال ہے، تو اسے روسیاہ میں تیرا کیا نام رکھوں تیری نا بینائی نے تجھ پر سینکڑوں پرڑے ڈال رکھے ہیں ، اور ان تعصب والی باتوں نے تیری جیڑ اکھاڑ دی ہے۔اس خدائے ذوالجلال کے بہت سے محجوب تیرے نزدیک تیرے اندھے پن کی وجہ سے ذلیل او حقیر ہیں ، کتنے لوگ ہیں جنہوں نے فنا کے سینکڑوں جام ہے، لیکن تیری ان آنکھوں میں وہ بھی حرص ولالچ سے بھرے ہوئے ہیں اگر تیری ہستی کا نام و نشان مٹ جاتا۔تو اس کتوں جیسی زندگی سے بہتر ہوتا، اگر تیری الدہ نیری بجائے کوئی کو جنتی - توتیری اس بد اصل فطرت کی نسبت اچھا ہوتا۔کیونکہ تیرے سر میں جھوٹ افسق اور کفر بھرا پڑا ہے ، اور گندگی کھانے کی یہ تیری عادت اسے بھی بدتر ہے۔آزلی بدبخت تو ہلاک شد ہے۔کیونکہ اس جہانوں کی جان سے بھی باغی ہو گیا ہے :