درثمین فارسی کے محاسن — Page 147
۱۴۵ گر ندیدستی خدا او را بیس : من رانی قدری الحق اپی لیتی ہے دور تمکین ۱۳۶۵/ ۱۳۸ - مستان خدا پر جو انگلی اٹھاتا ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہے آنکه آویزد به مستان هندا به خصم او گردد جناب کبریا دست حق تائید این مستان کند بے چون کسے با دست حق دستان کند منزل شای برتر از صد آسمانی بس نہاں اندر نہاں اندر نہاں پا فشرده در وفائے دہرے : و از سرش بر خاک افتاده سری جان خود را سوخته بهر نگار : زنده گشته بعد مرگ صد ہزار صاحب چشم اند آنجا بے تمیز و پیٹی کوردان خود نباشد هیچ چیز روئے شان آن آتا ہے کا ندران : چشم مردان خیرہ ہم چون شتر الی ور ثمین (۱۳۸) لے ترجمہ : اگر تونے خدا کو نہیں دیکھا، تواس کو دیکھ لے۔یہ حدیث یقینی ہے کہ سنے مجھے دیکھا اتنی مد کو دیکھ لیا۔کے ترجمہ : جو شخص خدا کے عاشقوں سے الجھتا ہے، تو جناب ابلی خود اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔خدا کا ہاتھ ان عاشقوں کی مدد کرتا ہے، خدا کے ہاتھ کے خلاف کوئی شخص کیسے کوئی حیلے کر سکتا ہے۔ان کا مقام سینکڑوں آسمانوں سے بھی بہت اونچا ہے۔وہ تو مخفی د مخفی در مخفی ہوتے ہیں۔وہ دلیر کی وفاداری میں ثابت قدم رہتے ہیں۔اور اس کے دھیان میں ان کا سر مٹی پر پڑا ہوتا ہے۔انہوں نے محبوب کی خاطر اپنی جان کو جلا ڈالا ہے۔اور لاکھوں موتوں کے بعد پھر زندہ ہو گئے ہیں۔اس جگہ تو آنکھوں والوں کو بھی کچھ کچھ نہیں پڑتا۔تو اندھوں کی آنکھوں کی بھلا کیا حقیقت ہے جو ان کا چہرہ الیسا سورج ہے کہ اس کی روشنی میں مردوں کی آنکھیں بھی چمگادڑوں کی طرح شیرہ ہو جاتی ہیں۔