درثمین فارسی کے محاسن — Page 120
رجائیت رجائیت کے بغیر روحانی ترقی نامکن ہے مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔قرآن حکیم نے قوطیت کو کفر کی علامت قرار دیا ہے۔قدیم شعرا میں سے ایک حافظ ہی ایسے شاعر ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کے رجائی پہلو کو خاص اہمیت دی ہے۔مثلاً ایک جگہ وہ کہتے ہیں : فیض روح القدس ارباز مدد فرماید : دیگران هم بکنند آنچه مسیحام کرده لیکن حضرت مسیح موعود نے اپنے کلام میں رجائی پہلوکو میں بصیرت اور اعتماد کے ساتھ پیش کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔مثلاً ایک جگہ فرماتے ہیں : سے -۱- درای این مریم جندائی نبود به زموت و ز فوتش رہائی نبود ! رپا کرده خود راز شرک و دوئی ہے تو ہم گئی جنہیں ابن مریم توئی ہے در زمین ) اس سلسلہ میں بعض اور اشعار ملاحظہ فرمائیے اگر خود آدمی کابل نباشد در تایش حق به خدا خود راه بنماید طلبگار حقیقت راسه - در در ثمین ملک ے ترجمہ : اگر روح القدس کا فیض پھر یاوری کرے تو دوسرے بھی وہی کام کرسکتے ہیں، جو سیما کیا کرتا تھا۔ترجمہ : اس ابن مریم مسیح، میں خدائی نہ تھی۔وہ موت اور فوت سے آزاد نہیں تھا۔اس نے اپنے آپ کو شرک اور دوٹی سے چھڑا لیا۔تو بھی ایسا ہی کر تو تو بھی ابن مریم بن جائے گا۔کے ترجمہ : اگر سچائی کی تلاش میں انسان خود شکست نہ ہو۔تواللہ تعلی خود حقیقت کا راستہ دکھا دیتا ہے۔