درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 118 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 118

HA مرا مقصود و مطلوب تمنا خدمت خلق است : ہمیں کارم نہیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم نه من از خود نهم، در کوچه پندو نصیحت پا کر ہمدردی برد آنجا، به جبر و زور و اکراهم قیم خلق خدا ، صرف از زبان خوردن چه کار این گرش صد جای بپاریزم هنوزش عذر میخواهم چو شام پر غبار و تیره حال عالمی بینم : خُدا ہر وے فرود آرد دعا ہائے سحر گا ہم بر در همین م۳ ) -۲- تو نہ فہمی ہنوز این سخنم : در دلت چول فنر و شوم چه کنم اسے دریغا که دل زور د گداخت : درد ما را مخاطبے نشناختی دور شمین مثلا ) اے کہ چشمت نہ کبر پوشیده + چه کنم تا کشیدت دیده 110 ر در ثمین مشه -۴- چسان گفته من بفهمی تمام ؛ چسان ریزم اندر ولت این کلام در ثمین صنت نے ترجمہ: میرا مقصد مطلوب اور تمنا خدمت خلق ہے ہی میرا کارو بار ہے ہی مجھے فکر ہے یہی میری رسم دراہ ہے۔یکی اپنے آپ عظ و نصیح کے کوچ میں پاؤں نہیں رکھا۔مجھے تو مخلوق کی ہماری زیر دستی وہاں لئے جارہی ہے۔صرف زبان سے خلق خدا کا غم کھانا کونسا بڑا کام ہے۔میں تو اس کام کے لئے سینکڑوں جانیں بھی قربان کر دوں تب بھی معذرت خواہ ہوں جب میں دنیا کی گرد و غبار سے بھری ہوئی شام اور تاریک حالت کو دیکھتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ خدا اس پر میری صبح کی دعاؤں کا اثر پیدا کر رہے۔ے ترجمہ تو ابھی تک میری بات نہیں میں کیا کروں اور تجھے کیسے سمجھاؤں۔ہائے افسوس ہمارا دل درد کے مار سے پگھل گیا۔لیکن کوئی مقابل ہمارے درد کا احساس نہ کر سکا۔کے ترجمہ اسے وہ شخص جس نے اپنی آنکھ پر بحر کا پردہ ڈال رکھا ہے۔میں کیا کروں کہ تو آنکھ کھول دے۔کے ترجمہ : تو کیس طرح میری باتیں پوری طرح سمجھے گا۔میں کس طرح تیرے دل میں اپنی باتیں اتا ہوں ؟